امریکا کا مزید ایک ہزارفوجی مشرق وسطی بھیجنے کا اعلان

واشنگٹن : امریکا نے مزید ایک ہزارفوجی مشرق وسطی بھیجنے کا اعلان کردیا ہے، قائم مقام امریکی وزیردفاع پیڑک شناہن کا کہنا ہے مزید فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ ایرانی فوج کے جارحانہ رویے کے بعدکیا، ایران سے تصادم نہیں چاہتے، اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصدخطے میں موجود امریکی اہلکاروں اورمفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون نے مزید 1000 فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا اعلان کیا، امریکی نائب وزیردفاع پیٹرک نے ایک بیان میں کہا کہ سینٹرل کمانڈ کی درخواست پرعمل درآمد کرتے ہوئے مزید ایک ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں فضائی، بری اور بحری خطرات سے نمٹنے میں مدد لی جاسکے۔

جنرل پیٹرک کا کہنا تھا ایران کی طرف سے حالیہ ایام میں ہونے والے حملوں کے شواہد بتاتے ہیں کہ تہران معاندانہ روش پرعمل پیرا ہے، خطے میں امریکا اور اس کے مفادات کو ایرانی فوج اور اس کے حمایت یافتہ عناصر سے خطرات لاحق ہیں۔

امریکی نائب وزیردفاع نے کہا ایران سے تصادم نہیں چاہتے، ہمارا پہلا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور وہاں پرکام کرنے والے امریکی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، ہم خطے میں اپنے مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر انٹیلی جنس اداروں کی مصدقہ معلومات کی روشنی میں سیکیورٹی پلان تیار کرتے ہیں۔

قبل ازیں دو امریکی عہدیداروں نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی  سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید فوج بھیجنے کی تیاری کررہا ہے تاکہ خطے میں ایران کی طرف سے درپیش خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے بحر عمان میں تیل بردار جہازوں پرحملوں کے بعد خطے میں امریکی فوج کی اضافی نفری کی ضرورت بڑھ گئی ہے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرفوج بھیجنے کی خبردینے والے اہلکاروں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اضافی نفری کب بھیجی جائے گی۔

یاد رہے مئی کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1500 امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا مشرق وسطیٰ میں مزید فوج بھیجنے کے معاملے میں انہیں اپنی انتظامیہ کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں ایک ایسے وقت میں اضافی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے، اگرچہ دونوں ملک مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں مگر ایران پر الزام ہے کہ وہ امن بات چیت کے لیے امریکی شرائط کو نظر انداز کررہا ہے جب کہ ایران کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے امریکی ناقابل اعتبار ہیں۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *