امریکی صدر کی پیش کردہ نئی امیگریشن اصلاحات مسترد ہوگئیں، امریکی اخبار کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ نئی امیگریشن اصلاحات کو ڈیموکریٹس نے مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ اصلاحات میں تجویز دی گئی ہے کہ امریکا میں اب امیگریشن کے لیے کینیڈا کی طرح پوائنٹس بیسڈ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے امریکی امیگریشن نظام کا اعلان کیا جس کی بنیاد بہتر جانچ پڑتال پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھا، جدید اور قانونی نظام ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اب میرٹ اور پیشہ وارانہ مہارت کی بنیاد پر دوسرے ملکوں کے شہریوں کو امیگریشن دی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس نے ان اصلاحات کی مخالفت کی تو آئندہ سال ریپبلکن ایوان سے بل منظور کرالیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت گرین کارڈز کی تعداد گذشتہ سالوں کے برابر ہی رکھی جائے گی، نیا امیگریشن سسٹم دنیا میں ہمیں قابل فخر بنائےگا۔

صدر ٹرمپ نے نئی امیگریشن پالیسی میں موقف اختیار کیا کہ امریکا مکمل طور پر بھر چکا ہے۔ غیرقانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے رہنے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔

ادھر دونوں امریکی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اہم قانون سازوں کی رائے میں مجوزہ نظام کی کانگریس سے منظوری کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ اسپیکرنینسی پلوسی نے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی پر سخت تنقید کی۔

طالبان کو مذاکرات کے اخراجات دینے سے متعلق ٹرمپ کی درخواست مسترد

نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی میرٹ پرنہیں بلکہ اپنی ذاتی پسند ہے۔ نینسی پلوسی نے سوال اٹھایا کہ کیا خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا میرٹ ہے؟ نینسی پلوسی نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے بدترین اور ناکام امیگریشن منصوبوں کو نیا چہرہ دیا ہے۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *