انٹر پارلیمانی یونین کے جنرل اسمبلی اجلاس میں فخر امام کا کشمیر پر پُرجوش خطاب –

بلغراد: بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 141 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پر جوش خطاب میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین نے پارلیمانی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین سید فخر امام آئی پی یو کے اجلاس سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر برس پڑے۔

فخر امام نے کہا پارلیمانی برادری نے بر وقت اقدام نہ کیے تو صورت حال سنگین ہوگی، کشمیر کی صورت حال کو نظر انداز کیا گیا تو عالمی امن کو نقصان ہو سکتا ہے۔

انھوں نے برطانیہ کے پارلیمانی وفد کے سربراہ کے کشمیر سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا، اور کہا کہ کشمیریوں کو یو این قراردادوں میں حق خود ارادیت دیا جائے، عالمی برادری کو بے گناہ لوگوں کی حالت زار پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  پارلیمانی سفارت کاری، پاکستان کے ہاتھوں بھارت کو تاریخی شکست

فخر امام نے عالمی پارلیمانی رہنماؤں سے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تقریباً ایک لاکھ کشمیری شہید اور ہزاروں لا پتا ہو چکے ہیں، فیکٹ فائنڈنگ مشن خود جا کر کشمیریوں کی حالت زارکو دیکھے، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے، 22 ہزار خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔

انھوں نے کہا مقبوضہ وادی میں مظلوم کشمیریوں کی 8000 سے زائد اجتماعی قبریں ملی ہیں، کرفیو، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاری اور مواصلاتی بندش سرا سر ظلم ہے، پیلٹ گنوں اور کلسٹر گولہ بارود کا استعمال بھی قابل مذمت ہے۔

انھوں جنرل اسمبلی اجلاس میں کہا کہ مسئلہ کشمیر بات چیت اور سفارت کاری سے ہی حل ہونا چاہیے، علاقائی امن و استحکام ہی پائیدار ترقی اور خوش حالی کی بنیاد ہے۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *