ایران کی پہلی خاتون باکسر رنگ میں اتر آئیں –

ایران کی پہلی خاتون باکسر رنگ میں اتر آئیں، وہ باکسنگ کے کسی باقاعدہ مقابلے میں حصہ لینے والی پہلی ایرانی خاتون بن گئی ہیں۔

24 سالہ صدف خادم نے دو روز قبل فرانسیسی باکسر کے ساتھ اپنا پہلا میچ کھیلا اور اسے شکست دی، اپنے ملک میں خواتین کے لیے باکسنگ میں آنے کا راستہ کھولنے والی صدف اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں تاہم ان کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔

صدف نے 4 سال قبل باکسنگ شروع کی۔ انہوں نے تربیت حاصل کرنے کے لیے باکسنگ سینٹرز کا رخ کیا تو وہاں موجود تمام سہولیات کو مردوں کے لیے مخصوص پایا۔

بالآخر جب انہیں ایرانی باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے کہا گیا کہ صرف خواتین باکسر ہی انہیں تربیت فراہم کرسکتی ہیں (لیکن ایران میں کوئی خاتون باکسنگ ٹرینر موجود نہیں) تو صدف نے فرانس کا سفر کیا۔

یہاں انہوں نے ایرانی نژاد باکسنگ ورلڈ چیمپئن مہر منشی پور سے تربیت لینی شروع کردی۔ فرانس منتقل ہونے کے بعد انہیں باکسنگ کا باقاعدہ لائسنس بھی فراہم کردیا گیا جس کے بعد ان کے لیے باقاعدہ میچز میں حصہ لینے کی راہ ہموار ہوئی۔

اپنے پہلے ہی میچ میں فتح کو وہ ایرانی خواتین کی جیت سمجھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی جیت مزید ایرانی خواتین کو اس کھیل کی طرف راغب کرے گی۔

ایران میں اس وقت کئی خواتین باکسنگ کر رہی ہیں تاہم انہیں حکومت سے باقاعدہ اجازت حاصل نہیں ہے۔ وہ ترکی جا کر بغیر کسی ہیلتھ انشورنس کے مختلف میچز میں حصہ لیتی ہیں۔

ایران نے خواتین کے لیے کچھ کھیلوں پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ یہ پابندی چند ماہ قبل ختم کی گئی لیکن خواتین کی ٹریننگ کے لیے خواتین ٹرینرز ضروری ہیں جس کے بغیر ایرانی خواتین کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکتیں۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *