’’بھارت میں‌ ناگالینڈ، خالصتان نے علیحدگی کی تحریکوں کو تیز کردیا‘‘

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ بھارت میں ناگالینڈ اور خالصتان نے علیحدگی کی تحریکوں کو تیز کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے غیرسرکاری تنظیم کے زیر اہتمام کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کے اقدام نے خطے کی صورتحال یکسر تبدیل کردی ہے، بھارتی غیرقانونی اقدام نے خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدام سے مسئلہ کشمیر عالمی سح پر بھرپور اجاگر ہوا، امریکا سمیت مغرب میں بھارت کی پالیسیوں پر تنقید جاری ہے۔

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ کشمیر پر اقدامات پر بھارت کے اندر واضح تقسیم پائی جاتی ہے، بھارت میں علیحدگی کی تحریکوں میں شدت آچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے، کشمیر کی صورت حال دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیرمیں 65ویں روز بھی کرفیو

مشاہد حسین سید کے مطابق چین نے کشمیر پر کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے، بھارت نے پاکستان اور چین کے خلاف منافقانہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 اے ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں 65ویں روز بھی کرفیو جاری ہے، موبائل فون، انٹرنیٹ سروس بند اور ٹی وی نشریات معطل ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مواصلاتی نظام کی معطلی، مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے باعث لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وادی میں کرفیو کے باعث 3 ہزار 9 سو کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، وادی میں کھانا میسر ہے اور نہ ہی دوائیں۔ سرینگر اسپتال انتظامیہ کے مطابق کرفیو کے باعث روزانہ 6 مریض لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *