دیپک چاہار کی تباہ کن باؤلنگ، بنگلادیش کو شکست –

ناگپور: بھارت نے تیسرے ٹی ٹوینٹی میں بنگلادیش کو تیس رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی، بھارتی گیند باز دیپک چاہار  نے 6 وکٹیں حاصل کر کے ریکارڈ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت اور بنگلادیش کی ٹیموں کے مابین تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ ناگپور میں کھیلا گیا جس میں مہمان ٹیم کے کپتان محمود اللہ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا اعلان کیا۔

بنگلادیش کے باؤلر اننگز کے آغاز پر بھارتی ٹیم پر حاوی ہوئے تین رنز پر روہت شرما کو پویلین کی راہ دکھائی، دوسرے اوپنر شیکھر دھون بھی 35 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

نئے آنے والے بلے بازوں نے محتاط انداز سے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور 59 رنز کی پارٹنر شپ قائم کر کے ٹیم کو مشکل سے نکالا، شریاس ائیر نے جارحانہ کھیل کھیلتے ہوئے اسکور کو 144 تک پہنچایا تو وہ 62 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔دوسری طرف منیش پانڈے نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اسکور 174 تک پہنچایا اور بنگلادیش کو جیت کے لیے 175 رنز کا ہدف دیا۔

بنگلہ دیش کی جانب سے سومیا سرکار اور شفیع الاسلام 2، 2 وکٹیں لے کر نمایاں رہے جبکہ الامین حسین ایک وکٹ حاصل کرسکے۔

بنگلادیش کی ٹیم نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو بھارت کے نوجوان میڈیم فاسٹ باؤلر دیپل چاہار نے بلے بازوں کے لیے مشکلات کھڑی کیں، انہوں نے ہیٹ ٹرک کر کے ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔

بنگلادیش کی پوری ٹیم 144 پر آؤٹ ہوگئی، کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا البتہ محمد نعیم 48 گیندوں پر 81 رنز بناکر نمایاں بلے باز رہے۔

دیپک چاہار نے نہ صرف اپنے کیئریر کی پہلی ہیٹ ٹرک مکمل کی بلکہ انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی ریکارڈ ساز بولنگ کرتے ہوئے صرف 7 رنز دے کر 6 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ آئی سی سی کے مطابق ٹی ٹوینٹی فارمیٹ میں بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ سری لنکن اسپینر اجنتھا مینڈس کے پاس تھا جنہوں نے یہ کارنامہ 2012 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں زمبابوے کے خلاف انجام دیا تھا۔ اجنتھا مینڈس نے 8 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ میں یہ چوتھا موقع ہے جب ایک بولر نے 6 وکٹیں حاصل کیں، قبل ازیں 2 مرتبہ اجنتھا مینڈس اور ایک مرتبہ یوزویندر چہل یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ بنگلادیش نے ٹی ٹوینٹی کے پہلے میچ میں بھارت کو شکست دی تھی جبکہ دوسرا میچ میزبان ٹیم نے اپنے نام کر کے سیریز کو برابر کردیا تھا۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *