روسی پولیس نے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار صحافی کو رہا کردیا

ماسکو : روسی پولیس نے عوامی اپیل اور احتجاج پر منشیات اسمگلنگ کے مقدمات کو ختم کرتے ہوئے گرفتار معروف صحافی کو آزاد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق روسی پولیس نے معروف مقامی صحافی کو منشیات فروخت کرنے کے الزام میں دو ماہ کے لیے گھر میں نظر بند کردیا تھا، ایوان گولونوف نامی صحافی نے خود پر عائد الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے خلاف سازش قرار دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایوان گولونوف منگل کے روز رہائی کی خبر سننے کے بعد روتے ہوئے پولیس اسٹیشن سے باہر آئے اور تحقیقاتی صحافت کو جاری رکھنے کے عزم و ارادے کا اظہار کیا۔

روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولٹو نے اعتراف کیا سیکیورٹی اداروں کے عائد کردہ الزامات ثابت نہیں ہوسکے، جس کے باعث ہم نے داخلی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

روسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ فیسلہ فارنسک، بائیولوجیکل، فنگر پرنٹ اورجینیاتی معائنوں کے بعد کیا گیا ہے۔

کولوکولٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر ولادیمیر پیوٹن سے درخواست کی ہے کہ ایوان گولونوف کے کیس میں شامل دو اعلیٰ سطحی افسران کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے ایک نام داخلی امور کے سربراہ جنرل پچکو اور دوسرا نام انسداد منشیات کے شربراہ جنرل دیویاٹکن کا تجویز کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ منشیات اسمگلنگ کیس کی فائل کرائم انویسٹی گیٹرز کو بھجوا دی گئی ہے، تاکہ اس بات کی تحقیق کی جاسکے کہ ایک شہری کو نظربند کرنے کے معاملے پر افسران کے برائے راست ملوث کی قانونی حیثیت کیا ہے۔

واضح رہے کہ 36 سالہ گولونوف لٹویا سے تعلق رکھنے والے خبر رساں ادارے ’میڈوزا‘ کے لیے صحافتی خدمات انجام دینے والے فری لانس رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، جنہیں جمعرات کے روز گرفتار کرکے دو ماہ کےلیے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *