ملک کیلئے جان دینے والوں برطانوی شاہی خاندان کا خراج تحسین

لندن : جنگوں اور تنازعات کے دوران اپنی مار گئے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اتوار کو ’یادگاری اتوار‘ کے عنوان سے منایا گیا جس میں 10 ہزار سابق فوجیوں نے جلوس کی صورت میں شرکت کی۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیاست دانوں، سابق فوجیوں اور ملکہ برطانیہ سمیت شاہی خاندان نے لندن کے علاقے سینوٹاف میں شرکت کی اور ملک بھر میں دن 11 بجے جنگوں میں مارے گئے اہلکاروں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

تقریب کے دوران شہزادہ چارلس نے ملکہ برطانیہ الزبتھ دومّ کی جانب سے یادگار پر پھولوں کا گلدستہ چڑھایا۔

یادگاری اتوار کی تقریب میں 10 ہزار سابق فوجیوں نے جلوس کی صورت میں شرکت کی جن سے متعلق ملکہ برطانیہ نے ٹویٹ بھی کیا تھا کہ ’دس ہزار سابق فوجی مارچ کرتے ہوئے سینوٹاف (یادگار) سے گزریں گے‘۔

سینوٹاف میں ہونے والی سالانہ تقریب میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، اپوزیشن لیڈر جیریمی کاربن اور جوسوسنسن نے اپنی انتخابی مہم ترک کرکے شرکت کی اور یادگار پر پھولوں کا گلدستہ بھی چڑھایا۔

اتوار کو بطور یادگار منانے کے موقع پر دو منٹ کی خاموشی کا آغاز رائل گارڈز کی فائرنگ سے ہوا۔

سینوٹاف میں ہونے والی تقریب میں مسلح افواج کی کمیونٹی، برطانوی اور دولت مشترکہ کے سابق فوجیوں ، برطانیہ کے ساتھ مل کر لڑنے والے اتحادیوں اور دو عالمی جنگوں اور بعد میں ہونے والے تنازعات میں شامل شہری خدمات سرانجام دینے والے افراد اور خواتین کو اعزاز سے نوازا گیا۔

کابینہ کے وزراء ، مذہبی رہنماؤں اور دولت مشترکہ کے نمائندوں نے مسلح افواج کے 800 سے زیادہ ارکان کے ساتھ شرکت کی۔

یادگار پر پھول چڑھانے کے بعد ہجوم سڑک کے کنارے کھڑا ہوگیا تاکہ 10 ہزار سابق فوجیوں کے مارچ کو دیکھ سکے جو دھول کی تھاپ پر چل رہے تھے۔۔

برطانیہ ایک سابق فوجی کے مطابق ، یادگاری اتوار کی یادیں ہمیشہ ان کے لئے خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کیونکہ ان کے والد کو 1918 میں ہلاک کیا گیا تھا اور انہیں سومی ، فرانس میں ڈرنانکارٹ کمیونٹی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا تھا

مسٹر جانسن نے تقریب سے پہلے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے سینوٹا میں پہلی پھولوں کی چادر چڑھاتے ہوئے فخر محسوس کریں گے۔

انہوں نے کہا “آج بھی اپنی فوج میں ایسی بہادری کے ساتھ خدمات انجام دینے والوں کو چیمپیئن بنانا جاری رکھیں گے”۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *