پنجاب کی مقبول ترین صنفِ سخن –

اردو اور مقامی زبانوں میں بھی تخلیق ہونے والا ادب یوں تو ہمارے تمدن، تہذیب اور ثقات کو اجاگر کرتا ہے، مگر لوک ادب میں اس کا خاص رنگ جھلکتا ہے۔

لوک ادب میں کسی بھی علاقائی رہن سہن، تہذیب و تمدن اور ثقافت کی نہایت خوب صورت مثالیں ملتی ہیں۔ اسی میں شاعری بھی شامل ہے جس کی مختلف اصناف داستانوں، افسانوی شخصیات کے تذکروں سے آراستہ ہیں۔ ماہیا ایک ایسی ہی صنف ہے جسے ہم سرزمین پنجاب کے مقبول ترین عوامی گیت کہہ سکتے ہیں۔ اس صنفِ سخن کا تعلق لوک روایات سے ہے۔

ماہیا، دراصل ماہی سے تشکیل پایا ہے۔ اردو زبان میں ماہی سے مراد محبوب ہے۔ تاہم بعض محققین کے نزدیک یہ لفظ بھینس چرانے والے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور بعد میں مجازاً پیارے اور محبوب کے لیے بولا جانے لگا۔ مقامی شعرا نے پنجاب کے حسن، محبت کی داستانوں اور انسانی جذبات کو اس صنفِ سخن میں نہایت خوب صورتی سے سمیٹا ہے۔

ماہیا وہ کلام ہے جس میں تین مصرعوں میں شاعر اپنی بات کہتا ہے۔ اس صنف کا پہلا اور تیسرا مصرع ہم وزن جب کہ درمیانی مصرع کے دو حروف پہلے اور آخری مصرع کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ پنجاب کی اس مقبول صنف نے اردو زبان اور شعرا کو بھی متاثر کیا اور فلموں اور ریڈیو میں اردو ماہیے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ بنیادی طور پر گائی جانے والی صنف ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے دُھن، ردھم اور آوازوں کو اہمیت دی گئی۔

ماہیے میں خطۂ پنجاب کی خوب صورتی، دل کشی، یہاں کی تہذیب و اقدار اور ثقافت کو مدنظر رکھا گیا، مگر اردو شعرا نے بھی اس طرف توجہ دی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اردو زبان کے تخلیق کاروں نے اسے مقامی ادب سے نکال کراس کی اہمیت بڑھا دی۔ اردو زبان میں اسی طرح تین مصرعوں کی ہائیکو اور ثلاثی جیسی اصناف بھی موجود ہیں جن کے شعری لوازم جدا ہیں۔

ماہیے کے حوالے سے اردو شعرا کا نام لیا جائے تو قمر جلال آبادی اور ساحر لدھیانوی سے پہلے ہمت رائے شرما اور قتیل شفائی کے ماہیے فلموں میں گائے گئے۔ اس حوالے اختر شیرانی، چراغ حسن حسرت جیسے مشہور شعرا کا نام بھی لیا جاتا ہے۔

ماہیا پنجاب کی مقبول صنفِ سخن ہے اور ادبی محافل اور خاص تقاریب میں ضرور سنے جاتے ہیں اور سب ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں پنجاب کے دیہات کی خوب صورت زندگی اور دل رُبا داستانوں سے لازوال کرداروں کو سمیٹا گیا ہے۔ اردو زبان میں اس صنفِ سخن میں یہ مشہور گیت پیشِ خدمت ہے۔

ساون میں پڑے جھولے
تم بھول گئے ہم کو
ہم تم کو نہیں بھولے

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *