پیرس میں اسلاموفوبیا کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج

پیرس : فرانسیسی دارالحکومت میں لاکھوں افراد نے اسلاموفوبیا کےخلاف احتجاج کیا جس میں میڈیا و سیاستدانوں کے مسلمان مخالف بیانات کی شدید مذمت کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اتوار کے روز لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے دنیا بھر کی طرح فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

اسلاموفوبیا کے خلاف ہونے والے 2 کلومیٹر طویل احتجاج میں ہر رنگ و نسل و مذہب کے افراد نے شرکت کی اور متعصبانہ اور مسلم مخالف رویوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرے میں شریک 40 فیصد سے زائد مسلمانوں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ فرانس میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔

اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب ہے جبکہ مسلمان یورپ کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔

یہ احتجاج فرانس کے جنوب مغربی شہر بے یون میں سفید فام دہشت گرد کی مسجد پر فائرنگ کے دو ہفتے بعد منعقد ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس کے وزیر تعلیم ژان میشل بلانکور نے مقامی ٹیلی ویژن سے گفتگو میں اسلام فوبیا کے خلاف مظاہرے کی مخالفت کی تھی۔

بلانکورکا کہنا تھا کہ ایسے مظاہرے درست نہیں جو سیکولرزم سے متصادم ہے اور اسلام فوبیا جیسے اصطلاحات غلط ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرانسیسی دارالحکومت میں اسلاموفوبیا کے خلاف منعقد ہونے والے مظاہرے مختلف تنظیموں اور میڈیا کی شراکت سے منعقد کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ حملہ آور نے مسجد کے دروازے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 خواتین زخمی ہوگئیں تھی۔

پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 84 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے بندوق، گیس سلنڈر، اور گرنیڈز برآمد کرلیے۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آور مسجد کے دروازے کو آگ لگانا چاہتا تھا، آگ لگانے سے روکنے پر ملزم نے فائرنگ کردی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آور شخص مسجد کے قریب رہائش پذیر تھا، مذکورہ شخص نے اس سے قبل مسجد کی پارکنگ میں کھڑی ایک کار پر بھی فائرنگ کی تھی۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *