کیا آپ مجمع سے گفتگو کرتے ہوئے اٹکتے ہیں؟ –

ہم میں سے بہت سے افراد کو کوئی نہ کوئی ایسا موقع ضرور ملتا ہے جب انہیں بہت سارے لوگوں کے سامنے گفتگو کرنی ہوتی ہے، جیسے کوئی پریزینٹیشن دینا یا کسی تقریب میں جا کر اظہار خیال کرنا یعنی پبلک اسپیکنگ۔

ایسے موقع پر ہمیں بہت گھبراہٹ ہوتی ہے اور جب ہم گفتگو کرنا شروع کرتے ہیں تو الفاظ ہمارا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں نتیجتاً ہم جملوں میں بے ربط الفاظ ’آں، ہم، یو نو، لائیک‘ وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ ان الفاظ کو ’فلر ورڈز‘ کہا جاتا ہے۔

اگر آپ کسی پروفیشنل فورم پر خطاب کر رہے ہوں اور اس طرح کی صورتحال پیش آجائے تو آپ کا تاثر خراب ہوسکتا ہے اس کے بعد چاہے آپ کتنا ہی اچھا بولنا چاہتے ہوں لوگوں کی دلچسپی آپ کی تقریر میں سے ختم ہوجاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پبلک اسپیکنگ کے دوران ہم ہر 100 الفاظ کے دوران 2 سے 3 بار ان لایعنی الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی الفاظ سے جان چھڑانے اور روانی سے گفتگو کرنے کے کچھ طریقے بتا رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی گفتگو کے دوران کب اور کتنی بار اٹکتے ہیں۔ اس کے لیے ’کلیپ میتھڈ‘ سے مدد لیں۔ اپنے کسی دوست سے کہیں کہ وہ جب بھی آپ کو دوران گفتگو فلر ورڈز استعمال کرتا ہوا پائے تو تالی بجائے۔

اس سے آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ نے کتنی بار یہ الفاظ استعمال کیے۔

اگر آپ کو یہ طریقہ درست نہیں لگ رہا تو ریکارڈنگ کی مدد لیں۔ گفتگو کرتے ہوئے وائس ریکارڈر یا کیمرے سے ریکارڈنگ کریں اور بعد میں دیکھیں کہ آپ کن الفاظ پر اٹک رہے ہیں۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب لوگ فلر ورڈز استعمال کرتے ہیں تو اس وقت وہ سوچ رہے ہوتے ہیں۔ کوشش کریں کہ دوران گفتگو جب آپ سوچنے لگیں تو فلر ورڈز کا سہارا لینے کے بجائے چند سیکنڈز کا وقفہ لیں یعنی خاموش رہیں۔

بے ربط گفتگو کی ایک وجہ گھبراہٹ میں مبتلا ہونا بھی ہے۔ یاد رکھیں جب بھی آپ کہیں گفتگو کرنے جائیں تو اچھی طرح پریکٹس کریں۔ کہی جانے والی باتوں کی پریکٹس آپ کی گھبراہٹ میں کمی کرے گی جبکہ دوران گفتگو آپ فلر ورڈز بھی کم استعمال کریں گے۔

علاوہ ازیں اگر آپ مختلف تقریبات میں جاتے رہتے ہیں اور آپ کو اسٹیج پر جا کر لوگوں سے گفتگو کرنی پڑتی ہے تو پھر آپ اس کی مستقل پریکٹس کرتے رہیں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر گفتگو کرنا اور باقاعدگی سے اس عمل کو دوہرانا آپ کی پبلک اسپیکنگ کی صلاحیت میں بہتری لا سکتی ہے۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *