کے فور کی فزیبلٹی رپورٹ میں سنگین غلطیوں کا انکشاف –

کراچی: فراہمی آب کے سب سے بڑے منصوبے کے فور کی فزیبلٹی رپورٹ کے معاملے پر سندھ حکومت نے تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی بنا دی۔

تفصیلات کے مطابق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کے فور کی فزیبلٹی رپورٹ میں سنگین غلطیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کی تحقیقات کے لیے حکومت سندھ نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کینجھر جھیل سے کراچی 121 کلو میٹر روٹ میں 2 اہم نہری ذخائر شامل نہیں ہیں، سابقہ کنسلٹنٹ کمپنی نے 2 اہم نہری ذخائر ہالیجی اور ہاڈیروہر کو فزیبلٹی رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔

12 سال گزرنے کے بعد کے فور کے تین مرحلوں میں سے ایک بھی مکمل نہ ہو سکا، ذرائع کے مطابق جولائی 2018 تک کے فور کا فیز وَن مکمل ہو جانا تھا، کے فور کے دوسرے اور تیسرے فیز کو 2022 تک مکمل ہونا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈالر کی قیمت بڑھنے سے کے فور منصوبے کی لاگت بڑھی، ناصر حسین شاہ

منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 25 ارب روپے تھی، اب اس کی لاگت 100 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

یاد رہے گزشتہ روز وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے کے فور منصوبے کی لاگت بڑھی ہے، ہماری نیت اور ہاتھ صاف ہیں، کے فور منصوبے کی مکمل انکوائری ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا تھا کہ کے فور منصوبے میں تاخیر کا سبب سندھ حکومت کی کراچی دشمنی ہے۔

Comments

comments




Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *