آئی وی ایف ‘مکس اپ’: ایشیائی جوڑے کا غلط بچے کو جنم دینے پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Science Photo Library

امریکہ میں مقیم ایک ایشیائی جوڑے نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا میں ایک فرٹیلیٹی کلینک میں عملے کی غلطی کی وجہ سے ان کے غلط بچے پیدا ہوئے ہیں۔

یہ جوڑا آئی وی ایف (ان ورٹو فرٹیلائیزیشن) کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس جوڑے نے ریاست نیویارک میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ جب ان کے یہاں ولادت ہوئی تو وہ یہ جان کر صدمے میں آ گئے کہ جو دو لڑکے پیدا ہوئے وہ ایشیائی نسل کے نہیں تھے۔

مقدمے میں کہا گيا ہے کہ ڈی این اے کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ان بچوں کا اس جوڑے سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے اس جوڑے نے ان کی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرٹیلیٹی کلنک نے ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس جوڑے کو ‘شرمندگی اور بے عزتی’ سے بچانے کے لیے مقدمے میں صرف اے پی اور وائی زیڈ کے مخفف سے ان کی شناخت کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے آئی وی ایف پر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرنے سے قبل حمل ٹھہرانے کی بہت کوششیں کیں۔ ایک لاکھ ڈالر کے اخراجات میں دوائيں، لیبارٹری کی فیس، سفری اور دوسرے اخراجات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’پیدائش سے محروم رکھنے پر ایمبریوز کا ماں پر مقدمہ‘

یوکرین میں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش

آئی وی ایف میں خاتون کے بیضے کو اس کے جسم کے باہر زرخیز بنایا جاتا ہے اور پھر اسے رحم مادر میں واپس ڈال کر اسے پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ مقدمہ نیویارک کے مشرقی ضلعے میں گذشتہ ہفتے دائر کیا گیا ہے جس میں سی ایچ اے فرٹیلیٹی کے ساتھ دوافراد کی اس کے شریک مالک اور دائریکٹر کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور ان پر طبی پیشہ ورانہ اصولوں کی خلاف ورزی اور اس جوڑے کو دانستہ جذباتی تکلیف دینے کے الزامات لگائے ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 30 مارچ کو بچوں کو جنم دینے کے بعد وہ جوڑا ‘یہ دیکھ کر صدمے میں چلا گیا کہ جن بچوں کے بارے میں کہا گيا تھا کہ یہ ان کے جینیاتی مادے سے پیدا ہوئے وہ اس طرح نظر نہیں آئے۔’

چیزوں کے خلط ملط ہونے کی علامات ابتدا میں ہی اس وقت ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں جب ایک سکین میں یہ پتہ چلا کہ انھیں جڑواں بیٹے پیدا ہونے والے ہیں حالانکہ ڈاکٹر نے انھیں کہا تھا کہ علاج کے دوران انھوں نے مرد جینین کا استعمال نہیں کیا تھا۔

مبینہ طور پر ڈاکٹروں نے اپریل میں بچے کی پیدائش سے قبل اس جوڑے سے کہا کہ سکین درست نہیں۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نہ صرف یہ ان کے بچے نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کسی ایک سے بھی منسلک نہیں ہیں۔

اپنی ویب سائٹ پر سی ایچ اے فرٹیلیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ‘بدرجۂ اتم مخصوص ذاتی خیال ۔۔۔ انتہائی پیشہ ورارنہ فرائص کے احساس کے ساتھ رکھتے ہیں۔’

بی بی سی نے کمپنی سے ان کے رد عمل کے لیے رابطہ کیا۔

اس جوڑے کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ سی ایچ اے فرٹیلیٹی کی جانب سے برتی جانے والی شدید لاپرواہی اور بے خیالی سے ان کے مؤکل کو بہت پریشانی ہوئی ہے۔

وکیل نے کہا کہ ‘اس مقدمہ کو دائر کرنے کا ہمارا مقصد ہمارے مؤکل کو ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ حاصل کرنا ہے اور یہ یقین دہانی کرانی ہے کہ ایسا سانحہ پھر کبھی نہ ہو۔’


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *