آن لائن خریداری: جعلی آن لائن ریویوز کے ذریعے آن لائن خریداروں کو کیسے چکما دیا جاتا ہے


ایئن ٹیلرتصویر کے کاپی رائٹ
IAIN TAYLOR

Image caption

ایئن ٹیلر کہتے ہیں کہ انھوں نے جب سے آن لائن ریویوز لکھنے شروع کیے ہیں انھوں نے اپنے خاندان اور دوستوں سے کہا ہے کہ وہ ان پر اعتبار نہ کریں۔

مشرقی سسیکس سے تعلق رکھنے والے ایئن ٹیلر کا کہنا ہے ’میں نے یہ سیکھا ہے کہ ریویوز پر کبھی بھی بھروسہ نہ کیا جائے۔‘

44 سالہ ایئن ٹیلر کے مطابق وہ پیسے اور مفت مصنوعات کے بدلے میں جعلی آن لائن ریویوز لکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’میں نے ناقابلِ یقین کریموں سے لے کر ای بکس اور ڈاؤن لوڈ کردہ آزاد فلموں کے لیے ریویوز لکھے۔‘

ایئن ٹیلر نے مزید کہا ’میرے خیال سے یہ برا ہے تاہم میرا خیال ہے کہ ہر کوئی یہ کر رہا ہے۔‘

’میں نے جب سے آن لائن ریویوز لکھنے شروع کیے میں نے اپنے خاندان اور دوستوں سے کہا کہ وہ ان پر اعتبار نہ کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کیا خریدا ہوا مال واپس کرنا ایک عادت ہے؟

آپ کی چھ مالی پریشانیاں جن سے آپ ہی واقف نہیں

سنگلز ڈے: میگا شاپنگ میلے کے بارے میں پانچ اہم حقائق

ان کا مزید کہنا تھا ’اگر آپ کوئی چیز خریدنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو مزید تحقیق کرنی چاہیے بجائے اس کے کہ آپ ایمازون پر ’فائیو سٹار‘ ریویوز کو دیکھیں۔‘

ایئن ٹیلر کا کہنا ہے کہ مصنفین کو مصنوعات خریدنے کے لیے ادائیگی کی جاتی ہے اور پھر ریویوز لینے کے لیے، مطلب یہ کہ ریویوز کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

’شماریات پر حد سے زیادہبھروسہ‘

ناٹنگھم کے ایک مقبول پب میں کام کرنے والی خاتون جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں اپنے ریستوران کے بارے میں جعلی آن لائن ریویوز لکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’میں محسوس کرتی ہوں کہ فیس بک، گوگل یا ٹرپ ایڈوائزر پر مثبت ریویوز حاصل کرنے کے لیے بہت دباؤ ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ’مینیجر نے ہمیں کہا کہ ہم کھانے کے بعد ان کے گاہکوں کا ان کے سامنے ریویو کریں جو مجھے مضحکہ خیز لگا۔‘

جعلی آن لائن ریویوز کی دنیا منگل کو اس وقت دوبارہ شہ سرخیوں میں آئی جب ان کے گاہکوں کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا کہ ایمازون کی ویب سائٹ اجنبی برانڈز کی مصنوعات پر دیے گئے جعلی فائیو سٹار ریویوز سے بھری پڑی ہے۔

ایمازون کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ وہ اپنی خود کار ٹیکنالوجی استعمال کر کے جعلی ریویوز کو ہٹا رہے ہیں۔

ایمازون کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ اس نے اپنے ریویو سسٹم کو بچانے کے لیے ’اہم وسائل‘ میں سرمایہ کاری کی کیونکہ ’ہم گاہکوں کی اہمیت اور بصیرت جانتے ہیں اور دوسرے گاہکوں کی جانب سے شیئر کیے جانے والے تجربات کی قدر کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

’آپ جیت نہیں سکتے‘

مغربی یارک شائر کے علاقے بنگلی میں ایک کمپنی نے ویب سائٹس کے جعلی ریویز کے مقابلے کے خطرے کے پیش نظر دیگر ویب سائٹس کے ریویوز استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیچر ریڈی ایٹرز نامی کمپنی کی مارکیٹنگ ہیڈ ہیلینا گرویٹز کا کہنا ہے ’ہم واقعی ایک حقیقی اور اچھی صنعت میں کام کرتے ہیں۔‘

انھیں یقین ہے کہ اعلیٰ درجہ بندی کے ریویز کا حجم یہ ہے کہ کچھ حریف قانونی طور پر جائز نہیں ہو سکتے ہیں۔

ہیلینا گرویٹز کا مزید کہنا تھا ’ہم نے اس بارے میں بات چیت کی ہے، کیا ہمیں اس راستے سے نیچے جانے کی ضرورت ہے؟ لیکن میرے سرپرست بہت زیادہ ہیں، ہم ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ یہ غیر اخلاقی ہے، یہ سچ نہیں ہے۔‘

’آن لائن خریداری پر بھروسے کی کمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
FEATURERADIATORS

Image caption

کچھ گاہگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ جعلی تصدیق شدہ ریویز حاصل کرنے کے لیے ان کا ذاتی ڈیٹا استمعال کیا جا سکتا ہے

یہاں تک کہ تصدیق شدہ آن لائن ریویوز بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔ کچھ گاہگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ جعلی تصدیق شدہ ریویز حاصل کرنے کے لیے ان کا ذاتی ڈیٹا استمعال کیا جا سکتا ہے۔

’برشنگ‘ کے نام سے جانے، جانے والے اس دھوکے سے خریدار لوگوں کے نام اور پتے حاصل کرتے ہیں اور وہاں وہ چیزیں بھیجتے ہیں جو انھوں نے خریدی نہیں ہوتیں۔

ایمازون میں یہ ایک ایسے کاغذ کی طرح دکھائی دیتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ سامان سائٹ سے خریدا گیا اور اسے حوالے کر دیا گیا۔

اس کے بعد بیچنے والا نیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے کسی کی تفصیلات استعمال کرتا ہے جسے وہ مصنوعات کے ریویوز کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اس بارے میں ایمازون کا کہنا ہے کہ وہ ’بن مانگے پیکجز‘ جو کمپنی کی پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کی شکایات کی ’تحقیقات‘ کر رہا ہے۔

آرکیٹیک پال بیلے کو یقین ہے کہ وہ اس کا ہدف ہو سکتے ہیں۔ انھیں گذشتہ ماہ ایسے متعدد غیر متوقع ’تخائف‘ ملے جن میں کی رنگ، فون کیس، ٹیٹو ریمول کٹ اور ٹوتھ پیسٹ سیٹ شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’جب پہلا پارسل آیا تو وہ حیران کر دینے والا تھا، پھر میں نے اپنی بیوی سے چیک کیا کہ آیا اس نے خریداری کے لیے میرا اکاؤنٹ استعمال کیا۔‘

’اس روز جب دوسرا پارسل آیا تو میں پریشان ہو گیا اور پھر سب ٹھیک ہو گیا۔‘

پال بیلے کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتے ہیں کہ آن لائن بیچنے والے نے ان کا ڈیٹا حاصل کیا لیکن اس سے میں نے آن لائن خریداری میں یقین کھو دیا۔‘

ایمازون کی ایک ترجمان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیچنے والوں کو ایمازون سے نام یا شاپنگ ایڈریس نہیں ملے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
PAUL BAILEY

جنوبی لندن سے تعلق رکھنے والے 24 برس کے تتیلوپ اومیٹوگن بھی جعلی آن لائن ریویو لکھنے والوں کا شکار رہ چکے ہیں۔

پچھلے مہینے ایک صبح انھیں ایمازون سے 50 ای میلز آ چکی تھیں جن میں ان کا ریویو لکھنے پر شکریہ ادا کیا گیا تھا۔

یہ پوسٹس مختلف آئٹمز کے بارے میں کی گئی تھیں جن میں ایک ٹیلی سکوپ اور مختلف سکرین پروٹیکٹرز بھی شامل تھے سب کو فائیو سٹار ریٹنگ دی گئی تھی۔

انھوں نے کہا ’یہ ریویوز حقیقت کے بہت قریب تھے اس لیے مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک اصل انسان نے لکھے ہوں گے، کسی روبوٹ نے نہیں۔‘

انھوں نے جب ایمازون سے رابطہ کیا تو انھیں مطلع کیا گیا کہ انھیں لگتا ہے ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا۔ انھوں نے اپنا پاسورڈ تبدیل کیا اور انھیں اس کے بعد اس طرح کے مسائل نہیں ہوئے۔

ویبز آف انفلوئینس: دی سائکولوجی آف آن لائن پرسویشن کے نام سے لکھی جانے والی کتاب کی مصنف نٹالی نہائی کا کہنا ہے کہ آن لائن ریویوز اس لیے کامیاب ہو جاتے ہیں کیونکہ لوگ ’کوشش کیے بغیر‘ فیصلہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’جب بات خریداری کرنے، خاص طور پر ایسی اشیا کی جو آسانی سے خریدی جا سکتی ہیں ہمیں اس طرح کی آسانی کو دیکھتے ہیں۔‘

’ہم ان ریویوز کے ذریعے اپنی فیصلہ کرنے کی طاقت کو کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔‘

نہائی کا مطابق اگر بڑی تعداد میں افراد نے ریویوز لکھے ہوں لیکن ریٹنگ کچھ کم بھی ہو تو لوگ ایسی مصنوعات کی خریداری کر لیں گے۔

اس بات کو وہ ایک تحقیق سے جوڑتی ہیں جہاں ایک پراڈکٹ کو چار اعشاریہ تین کی ریٹنگ ملی ہو اور اس کے بارے میں زیادہ افراد نے ریویوز دیے ہوں تو لوگ ان مصنوعات کو خریدنے میں زیادہ دلچسپی رکھیں گے ان مصنوعات کی نسبت جن کی ریٹنگ تو چار اعشاریہ چار ہو لیکن ان کے بارے میں کم لوگوں نے ریویوز دیے ہوں۔

نہائی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے ’ہم برے ریویوز کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔‘

ان کا کہنا ہے ’ہم فائیو سٹار ریٹنگ پر کم یقین رکھتے ہیں، کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ سچی نہیں ہو سکتیں۔ فائیو سٹار ریٹنگ چار اعشاریہ آٹھ یا چار اعشاریہ سات کی ریٹنگ سے کم قیمتی ہوتی ہیں۔‘

مارکیٹ ریسرچ کمپنی گلوبل ویب انڈیکس کے شعبہ گلوبل انسائٹس کی ڈائریکٹر نیسابے انڈر کا کہنا ہے کہ ایسی بہت ساری وجوہات ہیں جن کی بنا پر لوگ حقیقت کے قریب آن لائن ریویوز پوسٹ کرتے ہیں۔

یہاں ریویوز لکھنے کی مزید وجوہات بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر خریدار ایسے برانڈز کی مصنوعات خریدتے ہیں جن سے ان کا اپنا امیج بہتر ہوتا ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *