آپ قدرتی طور پر شب بیدار ہیں تو آپ کس طرح اس میں تبدیلی لا سکتے ہیں؟


محو خوابتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

برطانیہ اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سونے کی عادت میں قدرے تبدیلی کرنے سے لوگوں کی باڈی کلاک یعنی سونے کے نظام کو بدلا جا سکتا ہے جس سے ان کی طبیعت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اس کے لیے انھوں ‘شب خیز الوؤں’ پر توجہ مرکوز کی جن کا جسم انھیں دیر رات تک جاگنے کی ترغیب دیتا ہے۔

ان پر جس تکنیک کا استعمال کیا گیا ان میں پابندی وقت کے ساتھ بستر پر جانا، کیفین سے بچنا اور صبح کے سورج کو وافر مقدار میں لینا شامل تھا۔

اس کے متعلق تحقیق کرنے والوں نے کہا کہ ان کے طریقۂ کار واضح ہو سکتے ہیں لیکن ان کے لوگوں کی زندگی پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہر کسی کا اپنا باڈی کلاک ہوتا ہے جس کی لے سورج کے طلوع اور غروب ہونے پر مبنی ہوتی ہے۔

لیکن بعض لوگوں کی کلاک دوسرے لوگوں کی بہ نسبت تاخیر کا شکار ہوتی ہے۔

سحر خیز ‘چنڈول’ صبح جلدی جگتے ہیں لیکن شام کو دیر تک جاگے رہنے میں انھیں دقت ہوتی ہے۔ شب بیدار الّو ان کے برخلاف صبح دیر تک سست پڑے رہتے ہیں اور رات میں دیر تک چست رہتے ہیں۔

بہت سے شب بیدار الوؤں کے لیے نو سے پانچ تک کام کرنے والی دنیا میں فٹ بیٹھنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انھیں الارم کے ذریعے اس وقت اٹھنا پڑتا ہے جب ان کا جسم ابھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

شب بیداروں کی خراب صحت سے نسبت بتائی جاتی ہے۔

Image caption

کیا آپ چنڈول ہیں یا پھر الو؟

سا‏ئنسدانوں نے 21 انتہائی الّو صفت افراد کا مطالعہ کیا جو عام طور پر ڈھائی بجے رات کو سونے جاتے اور صبح دس بجے سے قبل بیدار نہیں ہوتے۔

ان کو مندرجہ ذیل تجاویز دی گئیں

  • معمول سے دو تین گھنٹے قبل جاگیں اور زیادہ سے زیادہ باہر جا کر صبح کی روشنی لیں۔
  • جس قدر جلد ممکن ہو ناشتہ کریں۔
  • صرف صبح کو ورزش کریں۔
  • روزانہ ایک معین وقت پر دوپہر کا کھانا کھائیں۔
  • اور شام سات بجے کے بعد کچھ نہ کھائیں۔
  • تین بجے سہ پہر کے بعد کیفین نہ لیں۔
  • چار بجے کے بعد کوئی قیلولہ نہ کریں۔
  • رات میں معمول سے دو تین گھنٹے قبل سونے جائیں اور شام کو روشنی مدھم رکھیں۔
  • روزانہ سونے اور جاگنے کے ایک معین وقت کی پابندی کریں۔

برمنگھم یونیورسٹی، سرے یونیورسٹی اور موناش یونیورسٹی کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ تین ہفتے کے بعد ان لوگوں نے کامیابی کے ساتھ اپنے باڈی کلاک میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے دو گھنٹہ پہلے کر لیا تھا۔

‘سلیپ میڈیسن’ نامی جریدے میں شائع اس سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں نے غنودگی میں کمی، تکان، دباؤ اور ڈپریشن میں کمی کی بات کہی اور ان پر کیے جانے والے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ ان کے ردعمل کی پھرتی میں بھی اضافہ ہوا۔

سرے یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیبرا سکین نے کہا: ‘سہل معمول اپنانے سے راتوں کو دیر تک شب بیداری کرنے والے اپنی باڈی کلاک کو درست کر سکتے ہیں اور اپنی جسمانی اور ذہنی صحت میں مجموعی طور پر بہتری لا سکتے ہیں۔’

کم مقدار میں نیند اور باڈی کلاک میں عدم توازن جسم کے کئی پراسیس پر اثر انداز ہو سکتا اور اس سے دل کی بیماری، کینسر اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

جسم سب سے زیادہ جن چیزوں کا استعمال کرتا ہے ان میں سے ایک سورج کی روشنی کا جسم سے گزرنا ہے۔ اس لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ دن میں جسم کو زیادہ کھلا رکھا جائے اور رات میں کم۔

بے ترتیب سونے اور جاگنے کے اوقات سے بھی جسم کی اندرونی گھڑی میں گڑبڑی پیدا ہوتی ہے جسے سرکیڈین ردم یا یومیہ تبدیلی کہا جاتا ہے۔

یہ طریقۂ کار اچھی نیند کے لیے واضح مشورے نظر آ سکتے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک جسم کی گھڑی کی تربیت میں مدگار ہیں۔

بہر حال ریسرچرز کو یہ معلوم نہیں کہ جو دیر رات تک جاگنے کے بری طرح عادی ہیں کیا ان پر یہ طریقۂ کار کام کرے گا کہ وہ اپنی عادت بدل سکیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کے ڈاکٹر اینڈریو بیگشا نے بی بی سی کو بتایا: ‘جو چیز واضح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آیا انتہائی شب بیداری کرنے والوں پر بھی یہ طریقے کام کریں گے؟

‘یہ نسبتاً سہل چیزیں ہیں جسے ہر کوئی کرسکتا ہے اور یہ میرے لیے حیرت انگیز ہے کہ یہ اثر کرتا ہے۔

‘اور اس کے ذریعے آبادی کے ایک اچھے خاصے حصے کی بغیر مخصوص سخت مداخلت کے مدد کی جا سکتی ہے کہ وہ بہتر محسوس کریں اور یہ واقعی اہم ہے۔’


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *