جھوٹوں کا بول بالا: کون سی ملازمتوں میں جھوٹ بولنا آپ کے لیے فائدے مند ہو سکتا ہے؟

جھوٹتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

میں ایک بات کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں: میں کافی جھوٹ بولتی ہوں۔

میں بات کو شروع یا ختم کرنے، لوگوں کو یا خود کو برا نہ محسوس ہونے دینے اور سماجی یا دفتری زندگی کو لاکھوں چھوٹے موٹے طریقوں سے آسان بنانے کے لیے جھوٹ بولتی ہوں۔

ہم کسی حد تک جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے لوگ ہم سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

ایسا نہیں ہو سکتا کہ روزانہ ان کا دن اچھا گزرے، وہ کام کو لے کر پُرجوش ہوں یا ان کی جگہ پروموشن حاصل کرنے والے شخص کے لیے وہ پورے دل سے خوش ہوں۔

لیکن جب دھوکہ دہی کا تعلق موڈ سے ہو ہی نہیں بلکہ ملازمت سے جڑا ہو تو؟ ایک نئی تحقیق کے مطابق کچھ شعبوں میں جھوٹ کے پھلنے پھولنے کی وجہ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ سچ کو لے کر لچک دار رویہ رکھنے والے افراد باقی لوگوں کی بنسبت اپنے کام میں بہتر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نوکری چھوڑنے کے عجیب و غریب انداز

جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ کی سچائی کیا ہے؟

نہ چھٹی، نہ تنخواہ، اور دنیا کی سب سے مشکل نوکری

32 کلومیٹر چلنے والے ملازم کو مالک نے اپنی گاڑی دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ
Alamy Stock Photo

Image caption

دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کمپنی کو فائدہ پہنچانے والی نوعیت کی نوکریوں کے لیے زیادہ موزوں ہوں گے

کام کی جگہ پر جھوٹ بولنے والوں کے ساتھ برتا جانے والا رویہ

عموماً کام کی جگہ پر دھوکہ دہی کو منفی طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کسی کو جھوٹ بولنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شاید اپنے کام میں اتنے اچھے نہیں ہیں۔

اعتماد اور مل جُل کر کام کرنے والے دفتری کلچر پر دھوکہ دہی کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔

لیکن حال ہی میں امریکی ریسرچرز برائن سی گونیا اور ایما ای لیوین کی طرف سے کی جانے والی ریسرچ کے مطابق ایسی نوکریوں میں جھوٹ بولنے کی چھوٹ ہے جنھیں گاہکوں کی بجائے چیزیں بیچنے پر مرکوز سمجھا جاتا ہے۔

مارکیٹنگ کے شعبے میں ‘کسٹمر اوریئنٹیشن’ کا مقصد گاہک کی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے جبکہ ‘سیلنگ اوریئنٹیشن’ کا تعلق کمپنی کے اپنے مقاصد پورے کرنے سے ہے۔ سیلز اور انویسٹمنٹ بینک کاری جیسے شعبوں کو کمپنی کے مقاصد پورے کرنے والے شعبوں کے طور پر جانا جاتا ہے حالانکہ حقیقت میں ایسا ممکن ہے کہ سیلزمین بہت خیال کرنے والے لوگ ہوں۔

ریسرچرز گونیا اور لیوین نے اپنی تحقیق میں شامل 500 سے زائد بزنس کے مضمون پڑھنے والے طالبعلموں سے مختلف نوکریوں کی گاہکوں کے برعکس کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت اور فرضی افراد کی قابلیت کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے کو کہا۔

ریسرچ میں حصہ لینے والے افراد کو مندرجہ ذیل منظرنامے دیے گئے مثلاً خرچوں کو درج کرتے ہوئے ‘جولی’ دعویٰ کرتی ہیں کہ انھوں نے ٹیکسی والے کو زیادہ پیسے دیے تھے حالانکہ انھوں نے کم پیسے دیے تھے۔ جیمز بادبانی میں دلچسپی رکھنے والے باس کے ہمراہ جانے کے لیے بادبانی میں دلچسپی رکھنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

ریسرچ میں شامل لوگوں کا ماننا تھا کہ دھوکہ دہی کا مظاہرہ کرنے والے افراد کمپنی کو فائدہ پہنچانے والی نوعیت کی نوکریوں کے لیے زیادہ موزوں ہوں گے اور اِن لوگوں نے ایسے افراد کو بھرتی کرنے پر ترجیع دی۔

مثال کے طور پر 84 فیصد لوگوں نے کمپنی کے مقاصد پورے کرنے والی نوکریوں میں دھوکے باز افراد کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ 75 فیصد لوگوں نے ایسی نوکری جس میں کمپنی کو کم جبکہ گاہگوں کو زیادہ فائدہ ہو، میں ایماندار لوگوں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا۔

نتائچ دلچسپ ہیں مگر مستند نہیں۔ (اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ریسرچ میں شامل افراد کو بہت کم پیسے دیے گئے)

یہ بات بھی واضع نہیں ہے کہ سروے کا حصہ بننے والے افراد کے عقائد ملازمین بھرتی کرنے والے منیجرز کے افعال کی عکاسی کریں۔

اس بارے میں ملے جلے شواہد ہیں کہ آیا کسٹمر اوریئنٹیشن زیادہ موثر ہے یا سیلنگ اوریئنٹیشن۔ تاہم مصنوعات کے بکنے میں کسٹمر اوریئنٹیشن کا پلڑا بھاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
James Boardman / Alamy Stock Photo

Image caption

نوکری کے لیے افراد بھرتی کرنے والے منیجرز اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ تقریباً تمام افراد اپنی قابلیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

کیا کام پر جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ ہے؟

جھوٹ بولنا کسی حد تک طبعی فعل ہے۔ فلسفی ڈیوڈ لیوِنگ سٹون سمتھ اپنی کتاب ‘وائے وی لائے: دا ایوالوشنری رُووٹس آف ڈیسیپشن اینڈ دا انکانشیئس مائنڈ’ کے شروعات میں لکھتے ہیں ‘قدرت دھوکہ دہی سے اٹی پڑی ہے’۔

وائرس جسم کے مدافعتی نظام کو چکما دیتے ہیں، گرگِٹ رنگ بدل کر اپنے شکاریوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ اور انسان اپنے کام کی جگہ پر کوئی مستثنیٰ نہیں۔

نوکری کے لیے افراد بھرتی کرنے والے منیجرز اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ تقریباً تمام افراد اپنی قابلیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

کچھ نوکریوں میں دھوکہ دہی بالکل ضروری ہے۔ (خفیہ جاسوس اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں) کچھ لوگوں کے لیے سفارت کاری جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔

کچھ کمپنیاں دھوکہ دہی کو بطور سٹریٹیجی بھی استعمال کرتی ہیں مثلاً گاہکوں کی پسند نا پسند کی وجہ سے ایک کال سینٹر کا اپنے ملازموں کو مختلف ملک میں ہونے کا دکھاوا کرنے کی ہدایت دینا۔

عام طور پر کام کی جگہ پر دھوکہ دہی کی تعریف دھندلی محسوس ہو سکتی ہے۔ کسٹمر سروس کی نوکری یا خصوصاً جن نوکریوں میں دوسروں کے جزبات کو متوازن رکھنے پر زور دیا جائے، ایسی نوکریاں کرنے والے افراد کو اپنے جزبات پنہاں رکھنے پڑتے ہیں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ فلائیٹ اٹینڈنٹ یا ماہرِ نفسیات آپ سے کہیں کہ آپ کو پرواز ناہموار ہونے کی وجہ سے فکرمند ہونا چاہیے؟ یا یہ کہ انھیں آپ کا علاج کرتے ہوئے کوئی فرق نہیں پڑ رہا؟

کچھ ملازمتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں آپ کو کسی حد تک مصنوعی طور پر دوسروں کے خیال کرنے کا دکھاوا کرنا پڑتا ہے۔

لیوین کہتے ہیں ‘لوگوں کا ماننا ہے کہ وہ افراد جو اپنے جزبات پر عبور رکھتے ہیں وہ ان لوگوں سے زیادہ قابل ہوتے ہیں جو ایسا نہیں کر پاتے۔’ جزبات کی غلط بیانی معقول رویہ ہے۔

یہ بات ان سوشل میڈیا انفلوینسرز پر صادق آتی ہے جن کے لیے کسی چیز کی درست خصوصیات بتانے اور اس چیز کو بیچنے کے درمیان کی لکیر دھندلی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے انسٹاگرام سٹارز جو شاہانہ ‘سرپرائز’ منگنیاں کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Alamy Stock Photo

Image caption

ایسی نوکریوں میں جھوٹ بولنے کی چھوٹ ہے جنھیں گاہکوں کی بجائے چیزیں بیچنے پر مرکوز سمجھا جاتا ہے۔

دل رکھنے کے لیے بولے جانے والے جھوٹ

بعض اوقات کسی کی خیر خواہی کے لیے بولے جانے والے جھوٹ کو زیادہ اخلاقی انتخاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ‘میری ریسرچ بھر میں میں نے یہ دیکھا کہ بہت سے لوگ ان کے بھلے کے لیے بولے جانے والی جھوٹ کو خوش آئند سمجھتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔’

مثال کے طور پر ‘ملازمین کا ماننا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کو ان کے کام کے بارے میں ایسی رائے نہیں دینی چاہیے جسے وہ پورا نہ کر سکتے ہوں اور وہ صرف ان کے دل کو ٹھیس پہنچانے کا کام کرے۔ سرطان کے مریض ماہرِ سرطان کی سوچ سے زیادہ جھوٹی امیدوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔’

اس قسم کے رویے پر ثقافت کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ تحقیقات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مل جل کر رہنے والے معاشروں سے تعلق رکھنے والے افراد کا جھوٹ بول کر گروپ کے کسی انسان کا دل رکھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ماہرِ نفسیات مائیکل گِلفانڈ آٹھ ممالک کے 1500 سے زائد طالبعلموں پر مبنی ایک تحقیق کے شریک مصنف ہیں۔

ان کی تحقیق کے مطابق مل جل کر رہنے والے معاشروں (مثلاً جنوبی کوریا اور گریس) سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں نے انفرادیت پر مبنی معاشروں (مثلاً آسٹریلیا اور جرمنی) سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں سے زیادہ دھوکے بازی کا مظاہرہ کیا۔ تاہم مجموعی طور پر جھوٹ بولنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔

اس کے برعکس گِلفانڈ کہتے ہیں’معمول سے ہٹ کر سوچنے میں اکثر قوائد کو مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے۔’ کچھ تحقیقات نے تخلیقی صلاحیتوں اور بے ایمانی کے درمیان جوڑ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے اپنی بے ایمانی کی وضاحت کرنا آسان ہے۔

کام کی جگہ پر دھوکہ بازی کے حوالے سے نرمی کا پتا چلانا آسان نہیں ہے۔

ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی میں منیجمنٹ پروفیسر کے فرائض سرانجام دینے والے لونگ وینگ کہتے ہیں ‘کسی ادارے یا صنعت میں دھوکہ بازی کی طرف داری اکثر خفیہ طور پر ہی کی جاتی ہے کم از کم عوام سے تو چھپایا ہی جاتا ہے۔’

لیکن ان کو شبہ ہے کہ انڈسٹری یا ادارے میں ایسے قوائد ہمیشہ نہیں رہیں گے۔ ‘لمبے عرصے میں ایسے قوائد کو خارج کر دیا جائے گا۔’

ہلکا پھلکا چکما ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ کام کی جگہ پر سچ کا سہارا لیں تو کام کی جگہیں بہت بہتر ہو جائیں گی۔ چند سیاست دان اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ کام کی جگہ پر جھوٹ بولنا کتنے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

تو کیا وہ تمام جھوٹ جو میں کام کی جگہ پر بولتی ہوں وہ مجھے اپنے کام میں بہتر بناتے ہیں؟ شاید نہیں۔ لیکن مجھے ان کے بارے میں زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس بارے میں لیوین کہتی ہیں ‘ہم اس بات کی تو بہت پرواہ کرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں دوسرے لوگوں کے کیا ارادے ہیں لیکن ہمیں یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ کیا وہ سچ بول بھی رہے ہیں یا نہیں۔’


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *