لوگ صدیوں سے سُرخ پارے کے نام پر بیوقوف کیوں بن رہے ہیں؟

a red blobتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

سُرخ پارے کی فرضی داستان آج تک برقرار کیوں ہے؟

صدیوں سے اس پُر اسرار مادّے کے بارے میں روایتی داستانیں چلی آرہی ہیں اور وہ اب بھی مقبول ہیں۔ اور اب تو اشتہارات اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی اس پُر اسرار مادّے کی فروخت کا اعلان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ’سُرخ پارے‘ کی یہ داستان اب تک کیسے برقرار رہی ہے؟

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ ایک الاکسیر ہے جس میں سحر انگیز حد تک شفاء ہے اور یہ قدیم مصریوں کی حنوط شدہ نعشوں کے حلق میں دفن ہے اور وہاں سے اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ سرخ پارہ اتنا طاقتور مادّہ ہے کہ اس سے قیامت بپا کی جاسکتی ہے۔

یوٹیوب پر پوسٹ کی گئیں ویڈیوز تو اس میں جن بھوتوں جیسی خصلحتیں بتاتی ہیں۔ بعض افراد تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ پرانی قسم کی سلائی مشینوں میں یا چمگادڑوں کے گھونسلوں میں پایا جاتا ہے۔

لیکن ان کہانیوں میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ ’سُرخ پارہ‘ نامی مادّے کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

سُرخ پارے کی تلاش

اس حقیقت کے باوجود کے سرخ پارے کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، آپ اس کی تلاش کے بارے میں لوگوں کو مختلف ویب سائیٹس پر سخت تگ و دو کرتے دیکھیں گے۔ اس کی چھوٹی سے مقدار کی قیمت ہزاروں ڈالرز میں لگائی جا رہی ہوتی ہے۔

کئی ایسے اشتہارات ملیں گے جن کی تصویروں میں اسے ایک بڑی پلیٹ میں سرخ رنگ کی ایک مائع گولی کی شکل میں دکھایا جاتا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ ہی ایک کاغذ پر ایک ٹیلی فون نمبر بھی دیا گیا ہوتا ہے تاکہ کوئی بے وقوف اسے فروخت کرنے والے کا نمبر لگائے۔

’اشتہار میں درج ہو گا کہ صرف ’سنجیدہ افراد‘ رابطہ کریں۔ ’ہمیں آپ کی قوتِ خرید کا ثبوت چاہیے ہے پھر ہم آپ کو اس مادّے کے وجود کے بارے میں ثبوت دیں گے۔‘

تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ایک غیر قانونی شہ فروخت کے لیے پیش کی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے شعبہِ علم البشریات کی سربراہ لیزا وائین کہتی ہیں ’یہ ایک مکار شخص کا کھیل ہے اور اس میں خطرہ یہ ہے کہ کئی لوگ اس فریب کا شکار ہوں گے، شاید وہ لوٹ لیے جائیں یا ان سے کوئی ان کی رقم چھین لے، یا پھر وہ صرف اپنا قیمتی وقت برباد کریں۔‘

پروفیسر وائین کا اس فرضی داستان سے سابقہ اس وقت پڑا جب وہ گِزا نامی ایک اہرامِ مصر پر کام کررہی تھیں۔ وہ ایک اپنے ایک ساتھی محقق ڈاکٹر زاھی حواس، جو کہ قدیم مصری علوم کے ماہر تھے، ان کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھتی تھیں۔

ایک دن ڈاکٹر حواس کے پاس ایک سعودی شہزادہ ان سے ملنے آیا جس کی ماں کوما (طویل بے ہوشی) کی حالت میں تھی۔

پروفیسر وائین کہتی ہیں کہ ’یہ شہزادہ اپنی ماں کے علاج کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاری رقم لیے پھر رہا تھا۔‘

Image caption

اہرامِ مصر میں سحر انگیز سرخ پارے کے وجود کا خیال صدیوں پرانا ہے۔

لہٰذا اُس شہزادے نے ایک شیخ سے رابطہ کیا جو روحانی طریقوں سے علاج کرتا تھا، اُس نے شہزادے کو بتایا کہ اہرامِ مصر میں حنوط شدہ مدفون لاشوں کے ’حلق شے یہ مادّہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر تم مصر جاؤ اور وہاں آثارِ قدیمہ کے ماہرین سے بات کرو تو شاید وہ تمہیں یہ سُرخ پارہ دلوا دیں۔‘

لیکن جب یہ شہزادہ مصر پہنچا تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اسے اصل بات بتائی۔

ڈکٹر حواس کہتے ہیں کہ ’مجھے تمہاری والدہ کی حالت سن کر بہت افسوس ہوا ہے، لیکن یہ بات ایک بے معنی ہے۔ سرخ پارے نامی کسی شہ کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔‘

اس گفتگو کے ذریعے پروفیسر وائین پر یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر حواس اور ان کے ساتھیوں کے لیے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ انھیں ایسے کئی عربوں سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا جنھیں یقین تھا کہ فرعونوں کی حنوط شدہ میتوں کے حلق سے اس سحر انگیز سرخ پارے کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

’چمگادڑوں کے گھونسلے‘

اس خیال کی تاریخ واضح طور پر معلوم نہیں ہے۔ اس خیال کا ذکر قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان کیمیا دان اور فلسفی جابر بن حیان کی کتابوں میں ملتا ہے جس نے لکھا تھا کہ ’تاریخِ عالم میں اس کُرّہِ ارض پرتیار کیا جانے والا سب سے زیادہ قیمتی الاکسیر اہرامِ مصر میں چھپایا گیا ہے۔‘

لیکن جدید تاریخ کے زمانے میں جو لوگ سرخ پارے کی تلاش میں رہے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سرخ پارہ چمگادڑوں کے گھونسلے میں مل سکتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ چمگادڑ اس مادّے کو تیار نہیں کرتے ہیں، تب بھی اس کی تلاش کرنے والوں نے چمگادڑوں کے قدرتی مسکن کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
YouTube

Image caption

ایک ویڈیو فلم سے حاصل کی گئی ایک تصویر جس میں سرخ پارہ دکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ڈریکولا کی طرح اس کا بھی سایہ نہیں ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں نے چمگادڑوں سے سرخ پارہ حاصل کرنے کے خیال کو قدم اور آگے بڑھا دیا ہے، اور یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ سرخ پارہ جن بھوتوں والے چمگادڑوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اور اس طرح، جیسے کہ اس کی منطق بنتی ہے، اس سرخ پارے میں وہی خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ جن بھوتوں والی فلموں کے ویمپائیرز میں نظر آتی ہیں۔

’مائع کی صورت میں ڈریکولا‘ کی کہانیاں اکثر یو ٹیوب کی بے معنی ویڈیوز میں پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں کچھ ایسی ویڈیوز ہیں جنھیں لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ عام طور پر ایک سرخ قطرے کی شکل میں —- ایسا شک پیدا ہوتا ہے کہ اس ویڈیو میں قطرے کو کسی گرافکس کے ذریعے بنایا گیا ہے —- یہ قطرہ لہسن سے دور ہٹتا ہے، اور سونے کی طرف کھنچتا رکھتا ہے۔ لیکن جب اس کے سامنے آئینہ رکھا جاتا ہے تو اس قطرے کا اُس میں کوئی عکس نظر نہیں آتا ہے۔

سرخ پارے کی یہ حیران کن خصوصیات صرف اتنی ہی نہیں ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے ذریعے جنوں پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

سنہ 2009 میں سعودی عرب میں ایک قصہ مشہور ہوا تھا کہ سرخ پارہ اہرامِ مصر توڑے بغیر یا چمگادڑوں کی بِیٹھ کو چھانے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس قیمتی مادّے کی کچھ مقدار سِنگر کی پرانی سلائی مشینوں میں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پولیس نے اُس وقت اس افواہ کی تحقیقات کا آغاز کیا جب یہ عام گریلو مشین ہزاروں ڈالرز کی قیمت میں بکنا شروع ہو گئیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Science & Society Picture Library

Image caption

یہ خاتون سرخ پارے کے ایک خزانے کی مالک نہیں تھی۔

سرخ پارے کا خوف

اس مادّے کے بارے میں مختلف قسم کی افواہوں کی وجہ سے عالمی سیاست میں بھی اسے توجہ ملی۔ سنہ 1980 کی دہائی کے آخری حصے میں پورے مشرقی یورپ میں کیمیونسٹ حکومتیں ختم ہونا شروع ہو گئیں، اس وقت اس بارے میں ایک بے یقینی تھی کہ ان ریاستوں کے پاس جو جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا اس کا کیا بنے گا۔

اُس زمانے میں ایک جرنلسٹ، مارک حِبز کچھ ایسی افواہوں پر تحقیقات کر رہا تھا کہ سویٹ یونین کی لبارٹریز میں تیار کیا گیا ایک بہت ہی قیمتی جوہری مادّہ مشکوک اور خفیہ طریقے سے برائے فروخت ہے۔ اور وہ مادّہ کیا تھا؟ سرخ پارہ۔

مارک حِبز جو اب ایک امریکی تحقیقی ادارے کارنیگی اِنڈاؤمینٹ فار انٹرنیشنل پیس میں ایک سینئیر فیلو ہے، کہتے ہیں کہ اُس وقت کے بے یقینی کے ماحول نے ان افواہوں کو اور زیادہ تقویت پہنچائی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سویٹ یونین نے اس زمانے میں خفیہ طریقے سے جوہری بموں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع کیا ہوا تھا جو پورے ملک کے مختلف حصوں میں پھیلا ہوا تھا۔ اس زمانے میں ہمیں ان تمام معاملات کا اس وقت زیادہ علم نہیں تھا جب سویٹ یونین ٹوٹنا شروع ہوا، اس وقت تو ان کی سلامتی کے بارے میں بہت خدشات پیدا ہو گئے تھے۔‘

تاہم یہاں سرخ پارے کے بارے میں نظریات فرعونوں کی میتوں سے ملنے والے الاکسیر والے نظریات سے مختلف تھے۔ سویٹ یونین کے سرخ پارے کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ وسیع سطح پر تباہی پھیلانے والا مادّہ تھے۔ اور ایک بیس بال کے سائز کا بم ایک بہت بڑا ایٹمی دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

جو خوف سب سے زیادہ دہلا دینے والا تھا وہ یہ کہ یہ مادّہ بلیک مارکیٹ میں فروخت کے لیے پہنچ جائے گا اور کسی دہشت گرد یا کسی بدمعاش ریاست کے ہتّھے چڑھ جائے گا۔

تاہم مارک حِبز کہتا ہے کہ جب حکومتوں نے اس مادّے کے بارے میں تحقیقات کیں تو انھں معلوم ہوا کہ اس تباہ کن مادّے کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

پھر ان افواہوں کو آغاز کیسے ہوا؟ مارک کہتا ہے کہ روسی سائینسدانوں نے اسے بتایا تھا کہ دراصل سرخ پارہ ایک جوہری آئیسوٹوپ کا عُرفیت والا نام تھا۔ تاہم جب اس نے امریکی اور روسی حکومتوں اس بات کی تصدیق چاہی تو دونوں نے نہ تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔

اور پھر اس کے مقابلے کا ایک اور نظریہ اُبھرا — وہ یہ کہ امریکی حکومت نے خفیہ طور پر سرخ پارے کے بارے میں اس لیے افواہیں پھیلائی تاکہ دہشت گردوں کو جال میں پھنسایا جا سکے۔ لیکن پھر اس کی بھی سرکاری سطح پر نہ کوئی تصدیق کرنے والا ہے اور نہ ہی تردید کرنے والا ہے۔

رنگے ہاتھوں پھر بھی نہیں ہے

اس وقت کے بعد سے اس مادّے کے بارے میں کئی ایک دہشت گردی کے واقعات میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

سنہ 2015 میں نیو یارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ نامی گروہ کے کچھ ارکان کو ترکی میں سرخ پارے کو خریدنے کی کوششوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

اور برطانیہ میں سنہ 2004 میں تین افراد پر دہشت گردی کی فردِ جرم عائد کی گئی تھی، اور یہ بھی سرخ پارے کو خریدنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ کس طرح ایک خفیہ بھیس میں ایک رپورٹر، مظہر محمود، جو نیوز آف دی ورلڈ کے جعلی شیخ کے نام زیادہ مشہور ہے، نے ایک کلو گرام سرخ پارے کو فروخت کرنے کا ڈرامہ رچاتا رہا۔

اس مقدمے کے استغاثہ کے وکیل مارک ایلیسن نے کہا ’استغاثے کا موقف یہ تھا کہ قطع نظر اس کے کہ سرخ پارے کا وجود ہے یا نہیں،‘ یہ تین افراد کسی ’ڈرٹی بم‘ کو ڈھونڈ رہے تھے جس سے یہ لندن کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ایک ملزم نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ وہ سرخ پارے کو اس لیے تلاش کر رہا تھا تاکہ دھبوں والی اپنی کرنسی کو دھو سکے۔ ان تینوں کو بعد میں بری کردیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Metropolitan Police

Image caption

مظہر محمود پولیس کی بنائی گئی تصویر میں سرخ پارے کے ایک تاجر کا روپ دھارے ہوئے ہے۔

اتنے معروف مقدموں اور اتنی مرتبہ اس مادّے کے پول کے کُھل جانے کے باوجود بھی، سرخ پارے کے بارے میں لوگوں کے خیالات بہت ہی ہٹ دھرمی کے ساتھ برقرار ہیں۔ اور اب یوٹیوب کی ویڈیوز اور آن لائین اشتہارات کی وجہ سے یہ فریب اگلی نسلوں میں منتقل ہو چکا ہے۔

یوٹیوب کا کہنا ہے کہ سرخ قطرے والی ویڈیوز شاید ان کی پالیسیوں کی لازی طور پر خلاف ورزی نہ کرتی ہوں تاہم وہ ہر ایک ویڈیو کا الگ الگ انداز میں جائزہ لے گا کہ آیا یہ ویڈیوز اس کے اشتہارات کے معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔

فیس بک اور ٹویٹر کا کہنا ہے کہ وہ جعل سازی کے بارے میں سخت پالیسی رکھتے ہیں۔ اور جب انھوں نے نشاندہی کی تو سرخ پارہ فروخت کرنے والوں نے اپنے اشتہارات ہٹا لیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
JOEL AREM/SCIENCE PHOTO LIBRARY

حقیقی سرخ پارہ

آخر میں اس بات کا ذکر کردیا جائے کہ ایک ایسی سرخ رنگ کی دھات جس میں پارہ ہوتا ہے وہ حقیقت میں وجود رکھتی ہے۔ اس کا کیمیائی نام ’مرکری سیلفائئڈ‘ ہے، اور یہ زیادہ قیمتی دھات نہیں ہے۔ اسے بعض لوگ شنگرف بھی کہتے ہیں اگرچہ یہ مٹی کے برتن کو سجانے کے کام آتی ہے، اس کا کسی شفا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ شاید یہ نقصان دہ ثابت ہو۔ اس لیے نہیں کہ یہ ایک انتہائی آتش گیر مادّہ ہے، بلکہ اس لیے کہ عمومی سطح کا پارہ انسان کے لیے مضرِ صحت ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *