نوبیل انعام: خلیے آکسیجن کے اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
SPL

طب اور فزیالوجی کے شعبوں میں سنہ 2019 کا نوبیل انعام ان تین سائنسدانوں کو دیا گیا ہے جنھوں نے دریافت کیا ہے کہ جب آکسیجن کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ہمارے جسم کے خلیے اس سے کیسے نمٹتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جسم کے خلیے یا سیلز خوارک کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں اور اس کے لیے انھیں آکسیجن درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’دن میں لگے زخم جلدی بھر جاتے ہیں‘

نو علامات جن سے بڑھاپے کا پتہ چلتا ہے

برین سیل تھیراپی پارکنسن کے لیے ‘امید کی کرن’

اس تحقیق پر تین سائنسدانوں، برطانیہ کے سر پیٹر ریٹکلف، امریکہ کے ولیم کیلن اور گریگ سیمنزا، کو نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ جب آکسیجن کم ہو جاتی ہے تو خلیے اس سے کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔

نوبیل انعام دینے والی سویڈِش اکیڈمی کا کہنا ہے کہ ان سائنسدانوں کی تحقیق کے ’نفیس‘ نتائج سے خون کی کمی (انیمیا) اور سرطان (کینسر) کے علاج میں مدد مل رہی ہے۔

ایک بیان میں اکیڈمی کا مزید کہنا تھا کہ ہم ’صدیوں سے اُس بنیادی اہمیت کو سمجھتے ہیں جو آکیسجن کو حاصل ہے، لیکن ہمیں ایک عرصے سے یہ نہیں معلوم تھا کہ آکسیجن کے زیادہ یا کم ہونے کی صورت میں خلیے کیا کرتے ہیں۔‘

سر پیٹر ریٹکلِف برطانیہ کے فرانسِس کرِک انسٹیٹیوٹ سے منسلک ہیں، ولیم کیلن کا تعلق ہارورڈ یونیورسٹی سے ہے جبکہ گریک سیمنزا جان ہاپکنز یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
ALBERT AND MARY LASKER FOUNDATION

Image caption

(دائیں سے بائیں) گریگ سیمنزا، ولیم کیلن اور سر پیٹر ریٹکلِف

آکسیجن

ہمارے جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی مجودگی گھٹتی بڑھتی رہتی ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب ہم ورزش کر رہے ہوتے ہیں، کسی بلند مقام پر ہوتے ہیں یا ہمیں کوئی زخم آ جاتا ہے۔

جب آکیسجن کم ہو جاتی ہے تو ہمارے سیلز کو فوراً خود کو ڈھالنا پڑتا ہے تاکہ وہ خوراک سے توانائی بنانے کے کام میں تبدیلی کر کے آکسیجن کی کمی سے نمٹ سکیں۔

ہمارے جسم میں آکیسجن کے اتار چڑھاؤ کو بھانپ لینے کی اس صلاحیت کی وجہ سے خون میں نئے سرخ خلیے بننا شروع ہو سکتے ہیں یا خون کی نئی شریانیں بھی بن سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ آکسیجن کا اتار چڑھاؤ بیماریوں کے خلاف مدافعت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور ماں کے پیٹ میں ہماری ابتدائی نشو و نما میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

جسم میں آکسیجن کی کمی بیشی کو سمجھنے کی صلاحیت کی بدولت ماہرین کو مختلف امراض سے نئے علاج دریافت کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

مثلاً، کینسر کی صورت میں ٹیومرز یا رسولیاں نئی شریانیں بننے کے عمل کو ہائی جیک کر لیتی ہیں، جس سے کیسنر کے لیے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

خون کی کمی کی صورت میں اگر جسم کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ مزید سرخ خلیے بنانا شروع کر دے تو یہ بھی انیمیا کا ایک مؤثر علاج ہو سکتا ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *