واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات تبدیل کرنا ممکن بنانے والی خامی

واٹس ایپ، فیس بک،تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

فیس بک کی جانب سے محققین کو بتایا گیا ہے کہ جن خامیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان کے حل واٹس ایپ کے استعمال کو مشکل بنا سکتے ہیں

ہم میں سے کئی افراد کو اس چیز کا تجربہ رہا ہوگا کہ کسی شخص کو کوئی بات بتائی جائے اور وہ اس بات کو مرچ مصالحہ لگا کر آپ کے نام سے آگے پھیلا دیے۔ اور جب مختلف لوگوں سے ہوتی ہوئی وہ بات واپس آپ کے کانوں تک پہنچے تو شاید آپ پہچان بھی نہ پائیں کہ یہ واقعی آپ کے الفاظ تھے۔

اور اگر آپ نے یہ سوچا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں تحریری پیغامات کے ساتھ یہ کام کرنا مشکل ہوگا تو اتنا پراعتماد ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ محققین نے مقبول موبائل چیٹ ایپ ’واٹس ایپ‘ کے اندر ایک ایسی سیکیورٹی خامی کا پتا لگایا ہے جس کے ذریعے آپ کے بھیجے گئے میسج کے ایک ایک لفظ کو تبدیل کرکے آپ کے نام سے پھیلایا جا سکتا ہے۔

’چیک پوائنٹ‘ نامی سائبر سیکیورٹی فرم کی ایک ٹیم نے حال ہی میں اس کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح ان کا تیار کیا گیا ٹول واٹس ایپ کے اندر ‘کوٹ’ کیے گئے میسج کو بالکل تبدیل کر کے یوں ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ کسی شخص نے وہ کہا جو انھوں نے حقیقت میں نہیں کہا۔

یہ بھی پڑھیے

قتل کی لائیو ویڈیو پر فیس بک کی پریشانی

فیس بک خودکشی کا سوچنے والوں کی نشاندہی کرے گا

’مسئلہ واٹس ایپ کا نہیں، سوچ کا ہے‘

محقق اودید ونونو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹول کی مدد سے ‘بدنیت افراد’ اس پلیٹ فارم پر ہونے والی گفتگو پر مکمل طور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب فیس بک نے اس معاملے پر بی بی سی کو کوئی تبصرہ دینے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

یہ خامی جھوٹی خبریں بنانے اور دھوکہ دہی میں استعمال ہوسکتی ہے

لاس ویگاس میں ہونے والی ایک سائبر سیکیورٹی کانفرنس ‘بلیک ہیٹ’ میں اس کمپنی نے ان خامیوں کا استعمال کر سکنے والے سافٹ ویئر کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

یہ ٹول چیک پوائنٹ ہی کی ٹیم کے گذشتہ سال شائع کیے گئے ایک تحقیقی مقالے پر مبنی تھا۔

محققین نے بتایا کہ یہ خامی جھوٹی خبریں بنانے اور دھوکہ دہی میں استعمال ہوسکتی ہے۔

جب آپ کسی کے پیغام کو کوٹ کرتے ہوئے ریپلائے کرتے ہیں، تو اس ٹول کے ذریعے آپ اس پیغام کا ایک ایک حرف تبدیل کر سکتے ہیں جس سے ایسا محسوس ہوگا کہ اس شخص کا پیغام درحقیقت کچھ اور تھا۔

اس کے علاوہ اس ٹول کے ذریعے پیغام بھیجنے والے شخص کی شناخت بھی تبدیل کی جاسکتی ہے جس سے کسی پیغام کو کسی دوسرے شخص سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

محققین نے ایک تیسری خامی کا پتا لگایا تھا جس کے ذریعے کسی شخص کو دھوکہ دیا جا سکتا تھا کہ وہ کسی کو پرائیوٹ میسج کر رہے ہیں جبکہ درحقیقت ان کا پیغام کسی گروپ کو جا رہا ہوتا۔

اس تیسری خامی کا فیس بک نے سدِ باب کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ واٹس ایپ بھی فیس بک کی ملکیت ہے۔

مگر ونونو کے مطابق فیس بک کا کہنا ہے کہ ‘تکنیکی محدودیت’ کی وجہ سے دیگر خامیاں ٹھیک نہیں کی جا سکتیں۔

فیس بک نے محققین کو بتایا کہ واٹس ایپ پیغامات کو خفیہ رکھنے کے لیے جو ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، اس کی وجہ سے کمپنی کے لیے کسی پیغام کو مانیٹر کرنا اور کسی کے بھیجے گئے پیغام میں تبدیلی کو روکنا تقریباً ناممکن ہے۔

محققین کو بتایا گیا کہ جن خامیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، ان کے حل اس ایپ کی استعمال کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Facebook

Image caption

2018 میں انڈیا کی ریاست آسام میں دو افراد نیلوتپال داس (دائیں) اور ابھیجیت ناتھ (بائیں) کو واٹس ایپ پر ایک جعلی ویڈیو کے گردش کرنے کے بعد اغوا کار سمجھ کر قتل کر دیا گیا تھا

جب بی بی سی نے محققین سے پوچھا کہ انھوں نے ایسا ٹول کیوں جاری کیا جو اس خامی کا غلط استعمال آسان بنا سکتا ہے، تو انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ ایسا کرنے سے اس مسئلے پر بات ہوگی۔

ونونو نے کہا: ‘دنیا کی 30 فیصد آبادی یا تقریباً ڈیڑھ ارب افراد واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں، چنانچہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ جھوٹی خبروں اور پیغامات کو ردوبدل کے ساتھ آگے بھیجنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘ہم اس مسئلے سے نظریں چرا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا نہیں ہورہا۔’

واٹس ایپ کے ذریعے جھوٹی خبروں کا پھیلنا دنیا بھر میں، بالخصوص انڈیا اور برازیل جیسے ممالک میں ایک نہایت تشویشناک صورتحال ہے جہاں جھوٹی معلومات کی وجہ سے نہ صرف تشدد کے واقعات ہوئے ہیں، بلکہ اموات تک ہوئی ہیں۔

شدید تنقید کے بعد واٹس ایپ نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنے پلیٹ فارم میں کچھ تبدیلیاں کی تھیں جس کے ذریعے کوئی میسج کتنی مرتبہ فارورڈ کیا جا سکتا ہے، اس پر حد لگا دی گئی۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *