چندریان 2 مشن: انڈیا نے کیا کھویا کیا پایا؟

چندریان 2تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

ماہرین کے مطابق انڈیا کے چندریان 2 مشن کو ابھی کامیاب یا ناکام مشن نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انڈیا کا آربیٹر کامیابی سے چاند کے مدار میں اپنا کام کر رہا ہے۔ ‘اسے ایک سال تک کام کرنے کے لیے روانہ کیا گیا تھا لیکن ایندھن کی وافر مقدار کی وجہ سے یہ تقریباً ساڑھے سات سال تک کام کر سکے گا۔’

ہر چند کہ وکرم لینڈر توقع کے مطابق چاند کی سطح پر نہیں اتر پایا لیکن دنیا کی سائنس برادری نے انڈیا کی اس کوشش کو سراہا ہے۔

بی بی سی نے انڈیا کے معروف سائنسداں گوہر رضا سے اس کے متعلق بات کی تو انھوں نے کہا کہ ‘سائنس اور ٹیکنالوجی میں جو تجربات ہوتے ہیں اس سے کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے سے اپنے ڈیٹا شیئر کرتے ہیں۔’

یہ بھی پڑھیے

چندریان 2:وکرم لینڈر سے رابطے کی کوششیں جاری

چاند پر اترنے سے قبل چندریان 2 کا زمین سے رابطہ منقطع

جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر لکھنے والے معروف صحافی پلّو باگلا نے کہا کہ ‘ابھی اسے کامیاب یا ناکام مشن نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ انڈیا کے چندریان مشن 2 مدار میں کامیابی کے ساتھ قائم ہوا اور وہ اپنا کام کر رہا ہے جبکہ تجرباتی سطح پر جو لینڈر بھیجا گیا تھا اس سے آخری مرحلے میں رابطہ ٹوٹ گیا لیکن اب بھی اس سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ‘اگر چہ لینڈر کی چاند پر زندگی محض 14 دن ہے تاہم ابھی امید ختم نہیں ہوئی ہے جبکہ گوہر رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اب لینڈر سے رابطے کا قائم ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔’

انڈیا کا چاند مشن چندریان 2 کیا ہے؟

22 اکتوبر سنہ 2008 میں انڈیا نے چاند کے لیے اپنا پہلا مشن چندریان-1 روانہ کیا تھا جو کہ آٹھ نومبر کو چاند کے مدار میں چاند کی سطح سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہوا تھا اور اس نے کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح کی تصاویر بھیجی۔

انڈیا کے پہلے چاند مشن کی کامیابی نے انڈیا کی خلائی تحقیق کو نئی قوت بخشی اور اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسی زمانے میں چندریان 2 مشن کو منظوری دی تھی۔

چندریان-2 کو پہلے 14 جولائی کو زمین سے لانچ کیا جانا تھا لیکن آخری وقت میں تکنیکی خرابی کے سبب اسے روک دیا گیا اور بالآخر ایک ہفتے کی تاخیر سے یہ 22 جولائی کو سری ہری کوٹا سے روانہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
isro

Image caption

چندریان 2 مشن کے تین حصے ہیں اور یہ آربیٹر ہے جو چاند کے مدار میں گردش کر رہا ہے

انڈیا کا یہ مشن چاند کے مدار میں داخل ہو گیا اور وہ وہاں کامیابی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے۔ گوہر رضا نے بتایا کہ اسے ایک سال تک کام کرنے کے مقصد سے روانہ کیا گیا تھا لیکن چونکہ اس میں ایندھن وافر مقدار میں ہے اس لیے اب یہ تقریباً ساڑھے سات سال تک کام کر سکے گا۔

دوسری جانب آربیٹر سے چاند کی سطح کے لیے جو لینڈر روانہ کیا گیا تھا اسے سات ستمبر کی نصف شب کو چاند کی سطح پر اترنا تھا لیکن جب لینڈر سے چاند کا فاصلہ محض 2.1 کلومیٹر رہ گیا تو آربیٹر سے لینڈر کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
isro

Image caption

چندریان 2 کا دوسرا حصہ وکرم لینڈر تھا جو توقع کے مطابق چاند کی سطح پر نہیں اتر سکا

پلّو باگلا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چندریان-2 مشن کی مزید باریکیاں بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح اس مشن کو ناکام نہیں کہا جا سکتا۔

انھوں نے بتایا کہ چندریان-2 میں تین حصے تھے۔ ایک ‘آربیٹر’ جو چاند کے مدار میں گردش کے لیے تھا، دوسرا ‘لینڈر’ تھا جس کا نام ‘وکرم’ رکھا گیا تھا اور وہ چاند کی سطح پر سافٹ یعنی آرام کے ساتھ لینڈنگ کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ تیسرا ‘روور’ تھا جو لینڈر سے نکل کر چاند کی سطح پر نقل و حمل کے لیے تھا۔ روور کو ‘پرگیان’ نام دیاگیا تھا۔

پلو باگلا نے بتایا کہ ‘ایک مقصد سائنسی تھا جو کہ مدار میں آربیٹر کا قائم کرنا تھا اور وہ آپریشنل سیٹلائٹ ہے۔ اس میں آٹھ انتہائی اعلیٰ درجے کے سائنسی آلات نصب کیے گئے تھے اور وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ جبکہ وکرم لینڈر اور پرگیان روور اپنے پہلے تجرباتی مشن پر بھیجے گئے تھے۔ آپریشنل اور تجرباتی میں فرق ہو جاتا ہے۔ تجرباتی مشن یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر اسی پر مبنی آپریشنل مشن بھیجا جاتا ہے۔ اس تجرباتی مشن میں خرابی آئی لیکن اس میں مایوسی کی کوئی وجہ نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعظم مودی نے اس دن اپنے صبح کے خطاب میں کہا تھا کہ سائنس میں ناکامی جیسی چیز نہیں ہوتی ہے۔ اس کا دوسرا پہلو بھارت کے فخر کا پہلو تھا اور اس میں تھوڑی سی کمی رہ گئی۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
isro

Image caption

چندریان 2 کا تیسرا حصہ پرگیان روور تھا جو لینڈر کے اندر تھا اور ان دونوں سے اسرو کا رابطہ منقطع ہے

انھوں نے مزید بتایا کہ اس میں تیسری بات یہ تھی کہ انڈیا کا لینڈر چاند کے جنوبی قطب کی جانب جا رہا تھا جہاں پہلے کوئی نہیں گیا تھا۔

انڈیا چاند مشن سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا؟

پلّو باگلا نے بتایا کہ لینڈر اور روور میں دو تین سائنسی آلات نصب کیے گئے تھے۔ ایک ناسا کا آلہ لیزر ریفلکٹومیٹر تھا جس سے محل وقوع کا درست اندازہ ہوتا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا آلہ نصب تھا جو چاند پر زلزلے کی شدت کی جانچ کے لیے تھا۔ اور ایک آلہ چاند کی سطح کے دس سینٹی میٹر اندر جانے اور وہاں کا درجۂ حرارت لینے کے لیے تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح پرگیان روور پر بھی آلات نصب تھے جو کہ چاند کی سطح پر کیمیائی تجزیے کے لیے تھے۔ اس کے علاوہ دونوں کے ساتھ انتہائی اعلی قسم کے کیمرے نصب تھے جو ایک دوسرے کی تصویر لیتے اور جہاں لینڈر اترتا وہاں کی بھی تصویر لیتے۔

دوسری جانب آربیٹر میں آٹھ آلات نصب ہیں جن میں اعلیٰ قسم کے کیمرے ہیں جو چاند کی میپنگ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ وہ چاند کی تصویر کے ساتھ وہاں کے انتہائی باریک ماحولیات کے کیمیائی اجزا کا تجزیہ بھی کریں گے۔ اس کے ساتھ چاند پر موجود آئن یعنی برق پاروں کا بھی تجزیہ کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP/Getty Images

اس کے ساتھ آربیٹر میں ایک انتہائی نادر آلہ نصب ہے جسے ڈول بینڈ سنتھیٹک اپرچر راڈار کہتے ہیں۔ اس طرح کا آلہ اب تک کسی دوسرے ملک نے چاند کے لیے روانہ نہیں کیا ہے۔ سنگل بینڈ تو بھیجے گئے ہیں لیکن ڈوئل بینڈ نہیں۔

پلو باگلا نے بتایا کہ اس کے ذریعے چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش کی جائے گی اور دوسرے ممالک کے سائنسداں اسی بات کے لیے پرجوش ہیں۔

دوسری جانب ہم نے جب گوہر رضا سے سوال کیا کہ اگر لینڈر کامیابی سے ہمکنار ہوتا تو انڈیاکو کیا حاصل ہوتا اور وہ وہاں کیا جاننا چاہتا تھا تو انھوں نے بتایا: ‘اگر ہمارا لینڈر کامیابی کے ساتھ چاند کی سطح پر اتر جاتا تو پھر ہمارا ٹیکنالوجی سے سائنس کی جانب کا سفر شروع ہوتا۔ یعنی ہم اس کے ذریعے یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہاں جو معدنیات ہے اس کے مرکبات کیا ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہاں جو وائبریشن ہے اس کی نوعیت کیا وہ کس شدت کے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہاں پانی کیا مقدار ہے اور کیا ہم وہاں پانی کے بڑے ذخائر کو ڈھونڈ سکتے ہیں یا نہیں۔ اور ان چیزوں کو دھچکہ لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
BBC/Twitter

‘ہم ناکامی کا لفظ استعمال کرنا نہیں چاہتے کیونکہ سائنس میں ناکام ہونا نہیں ہوتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان عزائم کو صدمہ پہنچا ہے لیکن ہم ناکام نہیں ہوئے۔ ہم چندریان کا تیسرا مشن بھیجیں گے جس میں شاید ابھی ایک دو سال کا وقت لگے اس میں ان چیزوں کو دیکھنا چاہیں گے۔ اور اگر اس میں کامیابی نہیں ملتی تو چوتھا بھیجیں گے۔’

انھوں نے مزید بتایا کہ لینڈر اور روور پر جو چھ اہم آلات نصب تھے اور ان سے جو تحقیقات سامنے آنی تھیں انھیں ضرور دھچکہ لگا ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہاں کے ذرات کی کیا ماہیت ہے۔ چاند پر جو شمشی توانائی آ رہی ہے وہ کس طرح چاند پر اور وہاں کے ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہم معدنیات اور گڑھوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ سب جو سائنسی تحقیقات تھیں انھیں ضرور دھچکہ لگا ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *