ڈینگی پر پہلے کیسے قابو پایا گیا اور اب کیا ہو رہا ہے؟


ڈینگیتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

پاکستان میں ڈینگی وائرس نے رواں برس ایک مرتبہ پھر سر اٹھایا ہے۔ قلیل عرصے میں متاثرہ افراد کی تعداد مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 20000 سے تجاوز کر گئی ہے اور سلسلہ تاحال تھم نہیں پایا۔

سنہ 2011 میں بھی ڈینگی کی ایک بڑی پھوٹ دیکھنے میں آئی تھی۔اس دوران بھی صوبہ پنجاب میں بحران کی کیفیت پیدا ہوا گئی تھی جہاں 21000 افراد متاثر ہوئے اور 300 کے قریب مر گئے تھے اور اُس وقت کی انتظامیہ بھی کافی مشکل میں رہی تھی۔

تاہم اعداد و شمار کے مطابق اُس پھوٹ کے بعد اگلے برسوں میں آنے والی حکومتوں نے بتدریج وائرس کے پھیلاؤ پر قابو بھی پایا اور مریضوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

اُس وقت ڈینگی کے خاتمے کے منصوبے پر کام کرنے والے چند ماہرین آج بھی موجودہ حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

ان ماہرین کا اسرار ہے کہ اُس وقت کی جانے والی تگ و دو سے جو نظام بنایا گیا تھا وہ آج بھی کام کر رہا ہے۔

اس دعوے کے نتیجے میں سوال یہ ہے کہ پھر رواں برس ڈینگی کا وائرس اس قدر بڑے پیمانے پر کہاں سے نمودار ہوا؟

ڈینگی کے حوالے سے مزید پڑھیے

ڈینگی کے خاتمے کے لیے مچھر کو بانجھ بنانے کا تجربہ

ڈینگی سے کیسے بچیں اور ہو جائے تو کیا کریں؟

ڈینگی کے خاتمے کے لیے گھر گھر مہم

ڈینگی پر تحقیق کرنے والی اداروں کے چند حکام کا کہنا ہے کہ یہ رجحان بین الاقوامی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ‘کہیں نہ کہیں ڈینگی کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں پتہ لگانے اور اس حوالے سے حکام کو مطلع کرنے میں کوتاہی ہوئی ہے۔’

صوبہ پنجاب کی کابینہ کی ڈینگی کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر وسیم اکرم نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ‘عام افراد کی جانب سے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد میں کوتاہی ہے۔’

مگر ماضی میں اس قسم کی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے کیا نظام وضع کیا گیا تھا اور ڈینگی کس طرح قابو میں آیا تھا؟

وائرس کا کھوج لگانا

ڈینگی کا وائرس مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایک ایک مچھر کو ڈھونڈھنا اور مارنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ لیکن مچھر گندگی اور کھڑے پانی پر پھلتا پھولتا ہے۔ یعنی وہ اُن جگہوں پر اور اُس پانی میں انڈے دیتا ہے جن میں سے اس کا لاروہ نکلتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

لاہور میں ڈینگی کے خاتمے کے لیے سپرے کیا جا رہا ہے

ایسے لاروہ کو تلاش کرنا ممکن ضرور ہے، آسان پھر بھی نہیں۔ صوبہ پنجاب کی کابینہ کی ڈینگی کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر وسیم اکرم ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد میں اینٹیمالوجی کے پروفیسر بھی ہیں۔

ان کے مطابق ‘مچھر کو انڈے دینے کے لیے صرف چمچ بھر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔’

مچھر کی افزائش کی جگہیں گھروں سے باہر ہوں تو دیکھنا آسان ہوتا ہے مگر انتظامیہ کے لیے ہر ایک گھر میں جا کر ان کی نشاندہی کرنا انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔ تو کیا طریقہ اپنایا گیا؟

نگرانی کرنے والی ٹیمیں

حکام نے اس کام کے لیے دو قسم کی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ایک گھروں کے باہر ڈینگی کچ تلاش کرتی تھیں تو دوسری گھروں کے اندر جا کر تلاش کرتی اور ان کو تلف کرتی تھیں۔

ماضی کی انتظامیہ میں انسدادِ ڈینگی مہم کی سربراہی کرنے والے ڈاکٹر وسیم اکرم نے بتایا کہ ‘باہر کی ٹیمیں گلی محلوں تک میں جا کر دیکھتی تھیں کہ اگر کسی علاقے میں کسی جوہڑ یا گندگی کے ڈھیر میں ڈینگی کا لاروہ پایا جاتا ہے تو اس کو تلف کیا جائے۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

ان کا کہنا تھا کہ ‘صحیح وقت پر کی جانے والی نگرانی کے ذریعے لاروہ کو ختم کر کے مچھر کے زندگی کے سائیکل کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح آئندہ موسم میں اس کی تعداد کم ہوتی ہے۔’

تاہم اندرونی نگرانی کرنے والی ٹیموں کے لیے مشکلات زیادہ ہوتی ہیں۔ گھر گھر جا کر ایک ایک بالٹی کو کیسے دیکھا جائے؟ ایسا کرنا صرف ایک محکمے کے بس کی بات نہیں تھی۔

ذاتی حفاظت کی ذمہ داری

ضروری تھا کہ عام افراد کو آگاہی دی جائے اور وہ خود حفاظتی تدابیر کریں۔ پھر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان تدبیر پر عمل ہو رہا ہے اور ایسا اُسی وقت ممکن ہوتا جب محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے مختلف شعبے مشترکہ طور پر کام کریں۔

ماضی میں ڈینگی مچھر کے لاروہ کی نگرانی کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ یہ ٹیمیں عوام میں آگاہی پھیلاتی تھیں کہ ڈینگی کا لاروہ کہاں جنم لیتا اور پھلتا پھولتا ہے۔

ڈاکٹر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ آگاہی دی گئی کہ وہ مچھر کو افزائش کی جگہیں فراہم نہ کریں جیسے ‘فالتو سامان، گملوں، روم کولر، برتنوں اور دوسری جگہوں پر رکا پانی اور گندگی کے ڈھیر وغیرہ۔’

انتظامیہ کی ٹیمیں گھر گھر جا کر یقینی بناتی تھیں کہ ان ہدایات پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ چند واقعات میں لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے جن کی عمارتوں سے لاروہ برآمد ہوا۔

ڈاکٹر وسیم اکرم کے مطابق ‘یہ ٹیمیں صرف لاروہ کی نگرانی نہیں کرتی تھیں بلکہ اسے تلف بھی کرتی تھیں۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

ڈینگی لاروہ کی تلفی

ڈینگی لاروہ کی نشاندہی ہو جانے کے بعد اسے دو طریقوں سے تلف کیا جاتا تھا۔ گھروں کے اندر اس کو تلف کرنے کا طریقہ انتہائی آسان ہے۔

ڈاکٹر وسیم اکرم کے مطابق ‘اس کے لیے کرنا صرف یہ ہے کہ پانی کو ضائع کر دیں۔ پانی کے بغیر لاروہ مر جاتا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ جہاں ضرورت پڑتی وہاں کیمیکل کا سپرے بھی کیا جاتا تھا۔ ایسا زیادہ تر جوہڑوں اور تالابوں کے لیے کیا جاتا تھا۔ کوشش کی جاتی تھی کہ کیمیکل کم سے کم استعمال کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ جگہوں پر مچھلیاں چھوڑی جاتی تھیں جو لاروہ کو کھا لیتی تھیں۔

تصویری شہادت

تاہم حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس بات کو کس طرح یقینی بنایا جائے کہ جو سرکاری اہلکار انسدادِ ڈینگی کے اقدامات کر رہے تھے وہ واقعی اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔

ڈاکٹر وسیم اکرم کے مطابق تمام اہلکار جو لاروہ کی نشاندہی کرتے تھے اور اس کی تلفی کے لیے جو کام کیا جاتا تھا اس کی تصویر بنا لیتے تھے۔ تاہم پھر یہ مسئلہ بھی سامنے آیا کہ یہ کیسے پتہ چلایا جائے کہ وہ تصویر نئی تھی یا پرانی۔

اس کے لیے ابتدائی دن گزر جانے کی بعد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ایک نظام ترتیب دیا جس کے تحت تمام ریکارڈ کو آن لائن جمع کیا جاتا اور اس کی حقیقی نگرانی ممکن بنائی جا سکتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
PITB

ڈینگی ایکٹیویٹی ٹریکنگ سسٹم

اس نظام کے بانی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سابق سربراہ عمر سیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظام کے تحت ایک موبائل ایپلیکیشن تیار کی گئی اور 14000 اہلکاروں کو موبائل فون دیے گئے جن کی ذریعے وہ تصاویر لے کر ایپ پر اپ لوڈ کرتے تھے۔

‘اس طرح کام کیا ہوا، کس نے کیا اور اقدامات سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی آ جاتی تھیں اور وہ وقت بھی ظاہر ہو جاتا تھا جس پر وہ کام کیا گیا تھا۔’

ڈینگی کی پھوٹ کے بارے پیشگی اطلاع کا نظام

عمر سیف نے بتایا کہ اسی نظام کی مدد سے ڈینگی کی پھوٹ کے بارے پیشگی اطلاع حاصل کرنے کا نظام بھی بنایا گیا۔ اس سے یہ پتہ لگایا گیا کہ ڈینگی کے مریض کہاں سے آ رہے تھے۔

‘نگرانی کے لیے جو اہلکار وہاں جاتے تھے وہ اس مریض کو جیو ٹیگ کرتے تھے، اس طرح ڈیجیٹل نقشے پر دیکھا جا سکتا تھا کہ مریض کہاں سے زیادہ آ رہے ہیں۔ اس طرح اس علاقے میں ٹیمیں بھجوا کر انسدادی اقدامات کیے جاتے تھے۔’

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پیشگی اطلاع پر کسی بھی علاقے میں ڈینگی کی ممکنہ پھوٹ کو روکا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

کراچی کے ہسپتال میں ڈینگی کے لیے قائم کیا گیا وارڈ

تو اب ڈینگی کہاں سے آ گیا ہے؟

صوبہ پنجاب کی کابینہ کی ڈینگی کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ یہ نظام اب بھی قائم ہے اور اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ‘یہ نظام بنایا ہی ایسے گیا تھا کہ یہ پائیدار ہو اور اس پر عملدرآمد کیا جاتا رہے۔’

تو پھر پنجاب میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں حالیہ اضافے کی وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر وسیم اکرم کے مطابق ‘یہ کچھ تو بین الاقوامی رجحان ہے۔ باقی ہمسایہ ممالک میں بھی موجود ہے۔ دوسرا عام افراد کی لاپرواہی بھی اس کا ایک سبب ہے۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی سے بچاؤ کی لیے جو نظام وضح کیا گیا تھا اسی کی وجہ سے رواں برس پنجاب میں ڈینگی کی کسی بہت بڑی پھوٹ سے بچا گیا ہے۔

‘شروع میں ہمیں خدشہ تھا کہ یہ تعداد بہت زیادہ ہو گی مگر اب ہم نے اس پر قابو پا لیا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ شرح اموات نسبتاً کم ہے۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *