ژاؤمی: 108 میگا پکسل کیمرے والا نیا سمارٹ فون مارکیٹ میں پیش، فون کی قیمت 400 ڈالر مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ
ژاؤمی

Image caption

بیجنگ میں متعارف کرائے گئے فون کی قیمت 400 ڈالر مقرر کی گئی ہے

معروف چینی ٹیکنالوجی کمپنی ژاؤمی نے اپنا نیا فون متعارف کرایا ہے جس کا کیمرا 108 میگا پکسل کا ہے اور اس کے نیتجے میں یہ دنیا کا سب سے طاقتور فون کیمرا بن گیا ہے۔

‘می سی سی نائن پرو پریمئیم’ (Mi CC9 Pro Premium) کے نام سے متعارف کرائے گئے فون کی قیمت تقریباً چار سو ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

اس فون میں لگائے گئے کیمرے کا سینسر کورین کمپنی سامسنگ کا بنایا ہوا ہے لیکن حیران کن طور پر انھوں نے یہ اپنے تیار کردہ فون میں متعارف نہیں کرایا ہے۔

ژاؤمی کا کہنا ہے کہ اتنے طاقتور کیمرے کی مدد سے فون کے صارف انتہائی واضح تصاویر لے سکیں گے جس کی مدد سے تصویر لی جانے والی چیز کی جزئیات بھی واضح ہوں گی۔’

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

شیاومی کا ’فولڈنگ سمارٹ فون‘ متعارف

سمارٹ فون اتنا سمارٹ کیسے بنا؟

ریسرچ کمپنی کنالس کے مطابق ژاؤمی دنیا میں سمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں میں چوتھے نمبر پر ہے اور دنیا بھر میں استعمال ہونے والے سمارٹ فون میں میں نو فیصد حصہ ان کا ہے۔

ان کے فون کی فروخت یورپ میں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اگلے برس وہ جاپان میں بھی اپنے فون کی فروخت شروع کریں گے۔

ڈیجیٹل کیمرے سے فون کیمرے کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ
ژاؤمی

اب تک سو میگا پکسل سے زیادہ والے سینسر صرف درمیانی سائز کے ڈیجیٹل کیمرا میں لگائے جاتے تھے اور ان کی قیمت اکثر ہزاروں پاؤنڈ سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔

لیکن اگر ایک سمارٹ فون میں ایسے سینسر لگائے جائیں تو اس بات کا خطرہ ہو سکتا ہے کہ فون کی چھوٹے سائز کی وجہ سے فون میں لگائے گئے مختلف پرزوں سے پیدا ہونے والا برقی عمل ایک دوسرے پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے کھینچی گئی تصویر کا معیار خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ اتنے چھوٹے پکسل ہونے کی وجہ سے انھوں ایک بہت کم جگہ میں رکھا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے مدھم روشنی میں اچھی تصویر لینا کافی دشوار ہوتا ہے۔

لیکن سامسنگ کی تیار کردہ اس نئے سینسر میں ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے اس سینسر کی تیاری میں سب سے اہم جدت یہ پیش کی ہے کہ پکسلز کو چار چار کے سیٹ میں رکھا ہے اور ہر سیٹ میں لال، سبز اور نیلے رنگ کی روشنی کو پہچاننے کی صلاحیت دی ہے۔

اس جدت کی مدد سے لی گئی تصویر 27 میگا پکسل کی ہوتی ہے۔ البتہ اگر روشنی زیادہ ہو تو صارف فون کے سافٹ وئیر میں دی گئی صلاحیت کی مدد سے 108 میگا پکسل کی تصویر لے سکتے ہیں۔

اس سافٹ وئیر کی مدد سے سینسر میں موجود پکسلز کو مختلف انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔

مگر یہ ڈیزائن خامیوں سے پاک نہیں ہے۔ سمارٹ فونز کا تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ ڈی ایک او مارک کے مطابق فون سے لی گئی تصاویر میں اتنی تفصیل نہیں سامنے آئیں جتنی کی توقع تھی، بالخصوص سائے میں لی گئی تصاویر کا معیار دوسرے سمارٹ فونز کے مقابلے میں اچھا نہ تھا۔

صارفین کو مزید اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ 108 میگا پکسل پر لی گئی تصویر کا حجم بھی کافی زیادہ ہوگا اور اسے تیار کرنے میں فون کو زیادہ بیٹری صرف کرنی پڑے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
ژاؤمی

لیکن دوسری جانب ویب سائٹ کے کیے گئے تجزیے کے مطابق ‘می سی سی نائن پرو پریمئیم’ میں لگائے گئے دیگر لینس کی مدد سے لی گئی تصاویر زبردست معیار کی تھیں۔

ستمبر میں ژاؤمی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے فون ‘می مکس الفا’ (Mi Mix Alpha) میں یہ کیمرا متعارف کرائیں گے لیکن یاد رہے کہ یہ فون پرتعیش طبقے کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کی متوقع قیمت 2800 ڈالر سے زیادہ ہوگی اور وہ دسمبر سے پہلے مارکیٹ میں پیش نہیں کیا جائے گا۔

سمارٹ فون انڈسٹری سے منسلک ایک تجزیہ کار، بین ووڈز ژاؤمی کے فون کے بارے میں کہتے ہیں کہ عام عوام کے لیے متعارف کرائے گئے ‘می سی سی نائن پرو پریمئیم’ میں اتنے طاقتور کیمرے کا ہونا اسے مارکیٹ میں خاص مقام دلائے گا۔

‘موبائل فون بنانے والی کمپنیاں ہمیشہ یہ کوشش کرتی ہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز پیش کر سکیں جو صارفین کو متحیر کر سکے اور اتنا طاقتور کیمرہ یہ کر سکتا ہے۔ اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے ہے کے اس کی لی گئی تصاویر بہترین ہوں گی لیکن کئی صارفین یہی سمجھتے ہیں کہ زیادہ میگا پکسل کا مطلب ہے بہتر تصویریں۔’


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *