ہواوے کے اینڈروئڈ فونز پر اب گوگل کی بعض سروسز نہیں چلیں گی

ہواوے صارفینتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

ہواوے کے نئے ڈیزائن والے سمارٹ فونز پر گوگل کی بعض ایپس نہیں چلیں گے

گوگل نے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے لیے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم کے بعض اپ ڈیٹس بند کر دیے ہیں۔

اس طرح ہواوے کے نئے ڈیزائن والے سمارٹ فونز پر گوگل کی بعض ایپس نہیں چلیں گی، جو کمپنی کے لیے ایک دھچکہ ہے۔

خیال رہے کہ یہ اقدامات امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ہواوے کو ان کمپنیوں کی فہرست میں ڈالے جانے کے بعد کیے گئے ہیں جن کے ساتھ امریکی کمپنیاں اس وقت تک تجارت نہیں کر سکتیں جب تک کہ وہ لائسنس حاصل نہ کر لیں۔

گوگل نے ایک بیان میں کہا کہ وہ صدارتی حکم کی تعمیل کر رہے ہیں اور اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ہواوے بحران: امریکہ اور چین کے درمیان نئی سرد جنگ؟

چینی کمپنی ہواوے، روبوٹ کا بازو اور ہیروں کا شیشہ

امریکہ: غیر ملکی ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف اقدامات

پاکستان میں مقبول، دنیا میں مشکوک

ہواوے کے صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

ہواوے کے موجودہ صارفین تاحال ایپس اور سکیورٹی فکسز اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ گوگل پلے سروسز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن جب گوگل رواں سال اپنے اینڈرائڈ او ایس کا نیا ورژن لانچ کرے گا تو وہ ہواوے کے فونز پر دستیاب نہیں ہوگا۔

مستقبل کے ہواوے فون سیٹ میں اب یوٹیوب اور گوگل میپس جیسے ایپس نہیں ہو سکتے ہیں۔

اس کے باوجود ہواوے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم کا اوپن سورس لائسنس کے ذریعے استعمال کر سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP/Getty Images

اب ہواوے کیا کرے گا؟

گذشتہ بدھ کو ٹرمپ انتظامیہ نے ہواوے کو ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا جو بغیر حکومت کی منظوری کے امریکی کمپنیوں سے ٹیکنالوجی حاصل نہیں کر سکتیں۔

اس ’اینٹیٹی لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں ہواوے کے چیف ایگزیکٹو رین زینگ فے نے سنیچر کو جاپانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘ہم پہلے سے ہی اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔’

جاپانی اخبار نکے بزنس کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ سالانہ 67 ارب امریکی ڈالر کا ساز و سامان خریدنے والی کمپنی اپنے پرزے خود تیار کرنے کی جانب بھی جا سکتی ہے۔

ہواوے پر 5G موبائل نیٹ ورک کے استعمال میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر مغربی ممالک کی جانب سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور بہت سے ممالک نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی حکومت ہواوے کا سامان جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتی ہے، تاہم کمپنی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ اس کے کام سے کسی کو خطرہ نہیں اور وہ چینی حکومت سے آزاد ہیں۔

تاہم بعض ممالک نے ہواوے کی مصنوعات کا 5G موبائل نیٹ ورک میں استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

بہر حال ابھی تک برطانیہ نے باضابطہ پابندی سے گریز کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

چینی کمپنی ہواوے کو حالیے دنوں میں کافی دباؤ کا سامنا ہے

ہواوے کے لیے جزوقتی خسارہ؟

لیو کیلیون، بی بی سی ٹیکنالوجی ڈیسک ایڈیٹر

مغرب میں ہواوے کے لیے جز وقتی طور پر یہ بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

سمارٹ فون خریدنے والے ایسا اینڈروئڈ فون خریدنا نہیں چاہیں گے جس میں گوگل کا پلے سٹور یا سکیورٹی اپ ڈیٹس نہ ہوں۔

طویل مدت میں سمارٹ فون بنانے والے اس بات پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں کہ گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کا قابل عمل متبادل کیا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب گوگل اپنے پکسل سمارٹ فون کو بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جہاں تک ہواوے کا تعلق ہے، وہ بالآخر امریکی ٹیکنالوجی سے رابطہ منقطہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے سمارٹ فون ان کے اپنے پراسیسر سے چلتے ہیں اور رواں سال کے اوائل میں ان کے ایک عہدے دار نے جرمنی کے اخبار ڈی ویلٹ کو بتایا تھا کہ ‘ہم نے اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار کر لیا ہے جو کہ ہمارا پلان بی ہے۔’

اگر ایسا ہوتا ہے، تب بھی سام سنگ کو سنہ 2020 تک پیچھے چھوڑ کر دنیا کے سب سے زیادہ بکنے والے فون کا ان کا خواب ٹوٹ جائے گا۔


Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *